لڑائی ختم! ٹرمپ کا اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا اعلان

تازہ ترین

تازہ ترین

Donald Trump lands in Tel Aviv as hostages return
FILE PHOTO

امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر اور منگل کی درمیانی شب اعلان کیا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک مکمل جنگ بندی پر معاہدہ ہو چکا ہے، جو آئندہ چھ گھنٹوں میں نافذ العمل ہوگی۔

ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ایپ ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ سب کو مبارک ہو! اسرائیل اور ایران کے درمیان مکمل اور جامع جنگ بندی پر اتفاق ہو چکا ہے۔

جنگ بندی آئندہ چھ گھنٹوں میں شروع ہوگی جب دونوں ممالک اپنے جاری آخری مشن مکمل کرلیں گے۔ اس کے بعد بارہ گھنٹوں تک مکمل جنگ بندی ہوگی، اور پھر جنگ کو باقاعدہ ختم تصور کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ بندی کا آغاز کرے گا اور بارہ گھنٹوں بعد اسرائیل بھی جنگ بندی شروع کرے گا۔ چوبیسویں گھنٹے پر پوری دنیا اس 12 روزہ جنگ کے اختتام پر خوشی منائے گی۔ جنگ بندی کے دوران دونوں فریقین کو پرامن اور احترام پر مبنی رویہ اپنانا ہوگا۔

trump truth social

ٹرمپ نے اس جنگ کو 12 دن کی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تنازع برسوں جاری رہ سکتا تھا اور پورے مشرقِ وسطیٰ کو تباہ کر سکتا تھا لیکن ایران اور اسرائیل کی عقل، ہمت اور برداشت نے اسے روکا۔ انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ خدا اسرائیل کو، خدا ایران کو، خدا مشرقِ وسطیٰ کو، خدا امریکہ کو، اور خدا پوری دنیا کو سلامت رکھے۔

اس اعلان کے بعد ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے مبینہ طور پر تصدیق کی کہ تہران نے امریکا کی تجویز کردہ اور قطر کی ثالثی میں طے پانے والی اس جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔

ایران کے دیگر سرکاری ذرائع نے اس دعوے کو سراسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو کسی قسم کی کوئی سرکاری جنگ بندی کی تجویز موصول نہیں ہوئی، اور تہران اس وقت تک جنگ جاری رکھے گا جب تک ایک منصفانہ اور پائیدار امن قائم نہیں ہو جاتا۔

ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ ایسے بیانات کو گمراہ کن پروپیگنڈا اور ایرانی مفادات کے خلاف مزید حملوں کا جواز سمجھا جائے گا۔باوجود انکار کے، سفارتی ذرائع کے مطابق قطر نے ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مرکزی ثالثی کردار ادا کیا ہے۔

ٹرمپ نے چند گھنٹے قبل ایران کی جانب سے قطر میں واقع امریکی فضائی اڈے العدید بیس پر میزائل حملے کو کم اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے حملے سے قبل پیشگی اطلاع دی، جس کے باعث کوئی امریکی یا قطری جانی نقصان نہیں ہوا، اور نقصان بھی نہایت معمولی تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنے غصے کا اظہار کر لیا ہے اور اب امن اور ہم آہنگی کی طرف بڑھنے کا وقت ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ میں ایران کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہمیں پیشگی اطلاع دی، جس سے کوئی جانی نقصان نہ ہوا۔ اب شاید ایران خطے میں امن کی طرف بڑھ سکے، اور میں اسرائیل سے بھی یہی کرنے کی پرزور اپیل کروں گا۔

ایرانی افواج نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے قطر میں امریکی فوجی اڈے العدید پر انتقامی اور شدید نوعیت کا میزائل حملہ کیا ہے، جو کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے ردعمل میں کیا گیا۔

ایرانی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل نے کہا کہ یہ حملہ قطر کے شہری یا رہائشی علاقوں سے دور کیا گیا، اور اس کا مقصد کسی بھی طرح برادر ملک قطر یا اس کے عوام کو نقصان پہنچانا نہیں تھا۔

ایرانی سرکاری ٹی وی نے اس کارروائی کو آپریشن بشارت الفتح کا نام دیا ہے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے بھی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے یہ حملہ العدید ایئر بیس پر کیا، جو کہ امریکہ کا مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے، جہاں قطری افواج اور اتحادی ممالک کے اہلکار بھی تعینات ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق امریکی محکمہ دفاع اس حملے کے اثرات اور مزید خطرات کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔ قطر کی ثالثی میں ہونے والی اس وقتی جنگ بندی کو خطے میں قیام امن کی ایک نازک کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ایران کے اندرونی اختلافات، اسرائیلی ردعمل، اور عالمی طاقتوں کی شمولیت سے یہ جنگ بندی مستقل امن کی صورت اختیار کرتی ہے یا صرف ایک عارضی وقفہ ثابت ہوتی ہے۔

Related Posts