دوحہ: قطر اور دیگر خلیجی ممالک نے ایرانی میزائل حملے کے بعد عارضی طور پر بند کی گئی فضائی حدود کو دوبارہ کھول دیا ہے، قطر کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ ملک کی صورتحال مکمل طور پر مستحکم ہے اور معمولات زندگی مکمل طور پر بحال ہو چکے ہیں۔
قطر کے وزیر داخلہ کے ترجمان نے پیر کی شب ایک براہِ راست پریس کانفرنس میں عوام کو یقین دلایا کہ شہریوں اور رہائشیوں کی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام قومی ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ عوامی تحفظ یقینی بنانے کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی بین الاقوامی یا خارجی بحران یا تنازع کو قطر میں روزمرہ زندگی پر اثرانداز نہیں ہونے دیں گے اور عوام سے کہا کہ وہ افواہوں یا غیر مصدقہ خبروں پر کان نہ دھریں۔
— Oman Air (@omanair) June 23, 2025
وزارتِ داخلہ نے متنبہ کیا کہ کسی بھی غیر سرکاری ذریعے سے جاری معلومات کو شیئر یا ری پوسٹ نہ کیا جائے۔
قطری وزارت خارجہ نے بھی صورتحال کے معمول پر آنے کی تصدیق کی اور اس بات کا اعادہ کیا کہ تمام فریقین کو مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا چاہیے۔
کویت اور بحرین نے بھی اپنی فضائی حدود دوبارہ کھول دی ہیں، جو ایرانی میزائل حملے کے بعد احتیاطی طور پر بند کی گئی تھیں۔
امریکی سفارت خانے نے دوحہ میں اپنے شہریوں کے لیے تحفظ سے متعلق ایڈوائزری ختم کر دی ہے اور اعلان کیا ہے کہ منگل کے روز سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
دبئی میڈیا آفس کے مطابق دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی پروازیں بحال ہو چکی ہیں تاہم بعض پروازوں میں تاخیر یا منسوخی کی توقع کی جا رہی ہے۔
ادھر عمان ایئر نے اعلان کیا ہے کہ علاقائی کشیدگی کے پیشِ نظر اس نے دوحہ، دبئی، منامہ، اور کویت سمیت دیگر اہم مقامات کے لیے پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔ ایئرلائن نے مزید کہا کہ طویل متبادل راستوں کے باعث دیگر پروازوں میں بھی تاخیر ممکن ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے العدید امریکی ایئر بیس پر بیلسٹک میزائل حملے کو کم اہم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے حملے سے قبل پیشگی اطلاع دی تھی، جس کے باعث کسی امریکی یا قطری جان کا نقصان نہیں ہوا۔
اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر انہوں نے لکھا کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ کوئی امریکی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا اور نقصان بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔
Dubai Airports has resumed full operations at its airports in the emirate following a temporary precautionary pause. The safety and wellbeing of all travellers and aviation staff remain the highest priority.
While Dubai Airports is working with airlines to ensure flights operate…
— Dubai Media Office (@DXBMediaOffice) June 23, 2025
سب سے اہم بات یہ ہے کہ شاید انہوں نے اپنا غصہ نکال لیا ہے، اور اب مزید نفرت نہیں ہوگی۔
قبل ازیں قطر کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ ایران امریکا کشیدگی کے تناظر میں حفاظتی اقدامات کے تحت فضائی حدود عارضی طور پر بند کی گئی تھی۔
قطر کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق یہ فیصلہ خاص طور پر حجاج کرام اور بین الاقوامی مسافروں کے تحفظ کے لیے کیا گیا تھا۔ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام صرف عوامی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








