کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران ڈپٹی اسپیکر انتھونی نوید کی تقریر نے نہ صرف ایوان کو جھنجھوڑ دیا بلکہ مسیحی برادری کے دل بھی جیت لیے۔
انہوں نے اقلیتوں، خصوصاً مسیحی نوجوانوں کو درپیش روزگار، تعلیم اور مساوی مواقع کی عدم دستیابی جیسے بنیادی مسائل کو بھرپور انداز میں اسمبلی فلور پر اٹھایا جو کہ ایک جرات مندانہ اور تاریخ ساز قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈپٹی اسپیکر نے خطاب میں کہا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن میں اقلیتوں کے لیے 5 فیصد کوٹا مختص کیا گیا ہے، جو بلاشبہ پاکستان پیپلزپارٹی اور خاص طور پر صدر آصف علی زرداری کی اقلیت دوست پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ تاہم اس پر عملدرآمد کے فقدان نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس کوٹے کے تحت مسیحی نوجوانوں کو عملی طور پر نمائندگی نہیں مل رہی اور ان کا تناسب نہایت تشویشناک حد تک کم ہے۔
ڈپٹی اسپیکر انتھونی نوید نے تجویز دی کہ اقلیتوں کے لیے ملازمت کے ساتھ ساتھ تعلیم میں بھی کوٹا مختص کیا جائے کیونکہ جب تک نوجوان تعلیم یافتہ نہیں ہوں گے وہ روزگار کے مواقع سے بھی محروم رہیں گے۔
انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ حکومت تعلیم کے شعبے میں اقلیتوں کے لیے مخصوص سہولتیں دے تاکہ وہ خود کو معاشرے کا باوقار اور فعال رکن بنا سکیں۔
ان کی تقریر کے دوران اس وقت ایک دلچسپ لمحہ سامنے آیا جب اسپیکر اویس قادر شاہ نے انہیں وقت مکمل ہونے کا اشارہ دیا۔ انتھونی نوید نے ہنستے ہوئے جواب دیا: “سر! ہمارا تو طے تھا کہ آپ مجھے نہیں روکیں گے”، جس پر ایوان قہقہوں سے گونج اٹھا۔
اس خوبصورت مکالمے نے نہ صرف ماحول کو ہلکا پھلکا کیا بلکہ ثابت کیا کہ ڈپٹی اسپیکر کی باتیں دل سے نکل کر دلوں تک پہنچ رہی تھیں۔انتھونی نوید کا شمار پاکستان کی نمایاں مسیحی سیاسی شخصیات میں ہوتا ہے۔
وہ نہ صرف پاکستان پیپلزپارٹی کے دیرینہ کارکن ہیں بلکہ اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے ایک متحرک آواز بھی ہیں۔ انہیں پارٹی اور سماجی حلقوں میں ایک معتدل، باوقار اور عوام دوست سیاستدان کے طور پر جانا جاتا ہے۔
ان کی قیادت میں متعدد مسیحی نوجوانوں کو سیاسی و سماجی دھارے میں شامل کرنے کی عملی کوششیں کی گئی ہیں۔
انتھونی نوید کی یہ تقریر صرف ایک وقتی سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک دیرپا پیغام ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کو صرف آئینی تحفظ نہیں بلکہ عملی نمائندگی اور مساوی مواقع کی ضرورت ہے۔
ان کی آواز آج صرف اسمبلی کے ایوان تک محدود نہیں رہی بلکہ ملک بھر کے مسیحی اور دیگر اقلیتی حلقوں میں امید اور حوصلے کی ایک نئی لہر بن چکی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








