جنگ بندی کے نفاذ کے کچھ ہی گھنٹوں بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے ایک بار پھر سنگین رخ اختیار کر لیا ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان کے مطابق، اسرائیل نے مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجے ایران پر حملہ کیا، جسے ایران نے سیز فائر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ایران کی اعلیٰ سیکیورٹی کونسل نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ ایرانی فوج دشمن کے الفاظ پر اعتبار نہیں کرتی، اور کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ فوج کی تیاری کو اس انداز میں بیان کیا گیا کہ “انگلی ٹریگر پر ہے”۔
دوسری جانب، اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے ایک میزائل فائر کیا گیا تھا، جسے اسرائیلی فضائی دفاعی نظام نے کامیابی سے مار گرایا۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور دفاعی نظام ہائی الرٹ پر ہے۔
اسی تناظر میں اسرائیلی وزیر دفاع نے بھی بیان جاری کرتے ہوئے ایران پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا الزام لگایا اور کہا کہ ہم تہران کے مرکز میں اہداف کو نشانہ بنا کر جواب دیں گے، فوج کو حملے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسیوں نے اسرائیلی دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد ایران کی طرف سے کسی قسم کا میزائل حملہ نہیں کیا گیا۔ تہران کا کہنا ہے کہ یہ الزامات محض سیاسی پروپیگنڈا ہیں، تاکہ عالمی رائے عامہ کو گمراہ کیا جا سکے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتِ حال کسی بڑے تصادم کی طرف اشارہ دے رہی ہے، اور اگر دونوں فریقین نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو خطے میں جاری کشیدگی ایک بار پھر جنگ میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








