خون، بارود اور بربادی: ایران کے 950 شہید، اسرائیل میں 28 ہلاکتیں

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ ایرانی میڈیا)

ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روز تک جاری رہنے والی خونریز جنگ، بالآخر سیز فائر پر ختم ہوئی مگر اس مختصر دورانیے میں ہونے والا جانی اور معاشی نقصان دونوں ممالک کے لیے گہرا زخم چھوڑ گیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور دفاعی ذرائع کے مطابق، ایران کو اس جنگ میں سب سے زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

مجموعی طور پر 950 سے زائد ایرانی شہری اور فوجی اہلکار شہید ہوئے جن میں 17 سے زیادہ ایٹمی سائنسدان بھی شامل ہیں جبکہ دو ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں میں ایران کے اہم جوہری اور عسکری مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی فضائیہ نے امریکی مدد سے بی-ٹو بمبار طیاروں کے ذریعے گائیڈڈ بسٹر بموں کا استعمال کیا، جن سے ناٹانز، فارڈو اور اراک جیسے حساس مقامات کو شدید نقصان پہنچا۔

دوسری جانب ایران نے بھی اسرائیل پر کئی میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس کے نتیجے میں اسرائیل میں 24 سے 28 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔

ایرانی حملوں سے تل ابیب، حیفہ اور اشدود جیسے شہروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ کئی رہائشی علاقوں، اسکولوں اور اسپتالوں کو بھی نقصان پہنچا۔

جنگ کے دوران ایران نے بارہا دعویٰ کیا کہ اس کا ہدف صرف دفاعی ردعمل تھا جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے جنگ کا آغاز ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے کیا۔

سیز فائر کے اعلان کے باوجود دونوں فریقین ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات لگا رہے ہیں اور خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

ایران نے اپنے فوجیوں کو “ہمہ وقت تیار” رہنے کا حکم دیا ہے، جبکہ اسرائیل نے بھی دفاعی نظام کو “ہائی الرٹ” پر رکھا ہوا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنگ وقتی طور پر تھم چکی ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان نفسیاتی، سفارتی اور عسکری محاذ آرائی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ آنے والے دنوں میں یہ کشیدگی دوبارہ کسی بڑے تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

Related Posts