اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان نے مشورہ دیا ہے کہ مذاکرات ان لوگوں سے کیے جائیں جن کے پاس اصل طاقت ہے اور جن سے امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی بات چیت کرتے ہیں۔
علیمہ خان نے یہ گفتگو اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت کے باہر میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کی، جہاں وہ اپنے بھائی کے مقدمات کی پیروی کے لیے موجود تھیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں موجودہ حکومت کمزور اور خوفزدہ افراد پر مشتمل ہے اور یہی وجہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی مذاکرات کی بات پر آمادہ نہیں۔
علیمہ خان کے مطابق عمران خان کا موقف واضح ہے کہ جو لوگ اقتدار کی اصل قوت رکھتے ہیں، انہی سے بات ہونی چاہیے کیونکہ وہی فیصلہ سازی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
عمران خان نے مزید کہا ہے کہ انہیں بار بار کہا جاتا ہے کہ صرف اپنی رہائی کی بات کریں، خاموش رہیں، 9 مئی کے واقعات تسلیم کریں، معافی مانگیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج پر سوال نہ اٹھائیں تو رہا کر دیا جائے گا تاہم عمران خان نے اس رویے کو ظلم سے تعبیر کیا اور کہا کہ وہ ایسی خاموشی پر قید کو ترجیح دیتے ہیں۔
علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے واضح کیا ہے کہ وہ محرم کے بعد ایک نئی سیاسی تحریک کا آغاز کریں گے تاکہ موجودہ نظام کے خلاف آواز بلند کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی عمران خان تحریک کی بات کرتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے مذاکرات کا شوشہ چھوڑ دیا جاتا ہے مگر بانی کے الفاظ ہیں کہ کس سے بات کی جائے؟ علیمہ خان نے عدالتی رویے پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ ججز عمران خان کے مقدمات سننے سے گریزاں ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ یہ مقدمات نہایت بودے اور بے بنیاد ہیں۔
ان کے مطابق کوئی بھی جج ان مقدمات میں فیصلہ دینے کی جرات نہیں کرتا کیونکہ ایک غلط فیصلہ تاریخ کا ناقابلِ معافی جرم بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کو صرف خیبرپختونخوا کی حکومت نے نہیں بلکہ پورے ریاستی نظام نے مائنس کیا ہے۔
اس کے باوجود بانی پی ٹی آئی نے اپنے کارکنان اور قوم کو موقع دیا ہے کہ وہ اس مشکل وقت میں اپنی ذمہ داری نبھائیں۔ علیمہ خان نے پُرامیدی ظاہر کی کہ پاکستان میں بہت جلد ایک مثبت اور بڑی تبدیلی آئے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








