فائلر ہو یا نان فائلر! حکومت اے ٹی ایم اور بینک سے لین دین پر کتنا ٹیکس کاٹ رہی ہے؟ اہم انکشاف

تازہ ترین

تازہ ترین

Is the Govt Collecting Taxes on All Bank Transactions for Filers and Non-Filers?
Is the Govt Collecting Taxes on All Bank Transactions for Filers and Non-Filers?

وفاقی حکومت کی جانب سے بینک لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کے حوالے سے میڈیا میں ایک دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ یکم جولائی 2025 سے فائلرز اور نان فائلرز دونوں سے تمام اقسام کے بینک ٹرانزیکشنز پر ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے تاہم یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے صرف نقد رقم نکلوانے پر ود ہولڈنگ ٹیکس نافذ کیا ہے وہ بھی صرف ان افراد پر جو ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کرواتے یعنی نان فائلرز۔ اس ٹیکس کا اطلاق صرف اُن کیش ٹرانزیکشنز پر ہوتا ہے جو روزانہ 50ہزار روپے سے تجاوز کرتی ہیں۔

نئے ٹیکس قوانین کے تحت جو یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل ہوئے، وفاقی حکومت نے واضح کیا ہے کہ جو لوگ ایف بی آر کی فعال ٹیکس گزاروں کی فہرست میں شامل ہیں یعنی فائلرز، اُن پر یہ ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔

اگر کوئی فائلر ہے تو چاہے وہ بینک سے رقم برانچ کے ذریعے نکلوائے یا اے ٹی ایم سے، اسے کوئی ٹیکس ادا نہیں کرنا ہوگا۔

دوسری طرف نان فائلرز کو روزانہ 50 ہزار روپے سے زائد نقد رقم نکلوانے پر اب صفراعشاریہ 6 فیصد کے بجائے صفراعشاریہ 8 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ یہ کٹوتی خودکار طریقے سے ہر متعلقہ کیش نکاسی پر لاگو ہو گی۔

یہ وضاحت کرنا بھی ضروری ہے کہ یہ ٹیکس صرف نقد رقم نکلوانے پر لاگو ہوتا ہے، دیگر تمام بینک ٹرانزیکشنز جیسے آن لائن ٹرانسفرز، چیک کے ذریعے ادائیگی یا جمع کروائی گئی رقم پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں کیا جا رہا۔

اس لیے یہ تاثر دینا کہ حکومت تمام بینک ٹرانزیکشنز پر ٹیکس وصول کر رہی ہے، سراسر غلط ہے۔ صرف نان فائلرز کو مخصوص حد سے زیادہ کیش نکالنے پر ٹیکس دینا ہوگا جبکہ فائلرز اس سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہیں۔

Related Posts