آئی ایم ایف کا دباؤ کام آیا؛ سرکاری افسران کے اثاثے پبلک کرنے کا فیصلہ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی شرط کے مطابق گریڈ 17 سے اوپر کے سرکاری افسران کے اثاثوں کو پبلک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس ضمن میں سول سرونٹس ترمیمی ایکٹ 2025 منظور ہو کر گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے نافذ العمل قرار دے دیا گیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق تمام متعلقہ افسران (اور ان کے اہلِ خانہ) کو اپنے ملکی و غیر ملکی اثاثے ڈیجیٹل طور پر ایف بی آر کے ساتھ منسلک ویب پورٹل پر درج کرنا ہوں گے۔

نوٹیفکیشن اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے تمام وفاقی محکمہ جات کو پہنچا دیا گیا اور سول سرونٹس ایکٹ کے تحت سیکشن 15 کے بعد A‑15 کا نیا سیکشن شامل کیا گیا ہے۔

یہ اقدام آئی ایم ایف کی طرف سے جاری کی گئی شفافیت بھری شرط پر پورا اترنے کے لیے اٹھایا گیا ہے، تاکہ بیرونی کنٹرولرز کے اعتماد میں اضافہ ہو سکے۔ اس کے ساتھ ہی وہ ٹیکس اصلاحات اور کلائمیٹ لیوی جیسی تدابیر کا نفاذ ممکن ہوا، جن میں پٹرولیم مصنوعات پر اضافی ٹیکس شامل کیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ ملک میں محفاظتی اداروں اور مالیاتی استحکام کا دائرہ وسیع کرنے کی کوشش ہے،اگرچہ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ عمل شاید عوام پر لگنے والے نئے ٹیکسز کا پیشگی تبادلہ بھی ہو سکتا ہے۔

Related Posts