پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کو ہفتے کے روز اُس وقت سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے لشکرِ طیبہ کے سربراہ حافظ سعید اور جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو بھارت کے حوالے کرنے سے متعلق ایک متنازع بیان دیا۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں بلاول بھٹو زرداری سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان بھارت کے ساتھ خیر سگالی کے جذبے کے تحت حافظ سعید اور مسعود اظہر کو بھارت کے حوالے کرنے پر غور کر سکتا ہے؟
اس پر انہوں نے جواب دیا کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکرات ہوں، خاص طور پر دہشت گردی کے مسئلے پر، تو انہیں یقین ہے کہ پاکستان ایسے اقدامات پر اعتراض نہیں کرے گا۔
یہ ویڈیو کلپ سامنے آتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردعمل کا اظہار کیا، جس کی ایک جھلک یہاں پیش کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد دونوں تنظیمیں پاکستان کی نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (NACTA) کے تحت کالعدم قرار دی جا چکی ہیں۔
حافظ سعید اس وقت دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزام میں 33 سال کی سزا کاٹ رہے ہیں، جبکہ مسعود اظہر بھی NACTA کے تحت سرکاری طور پر پابندی کا سامنا کر چکے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








