گاندھی، نیلسن منڈیلا اور لوتھر کنگ؛ امام حسینؓ کی سچائی و حقانیت پر یک زبان

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

امام عالی مقام حسینؓ ابن علی کی قربانی صرف اسلامی تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ یہ حق و باطل کے درمیان ہونے والی ایسی معرکہ آرا جدوجہد ہے جو نسل، مذہب یا سرحد کی قید سے ماورا ہو کر ہر باضمیر انسان کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنی۔

دنیا کے ممتاز سیاسی رہنماؤں، مفکرین اور فلاسفیوں نے امام حسینؓ کے فلسفۂ حریت و قربانی کو انسانی وقار، عدل، اور مزاحمت کی عالمی علامت قرار دیا ہے۔

ہندوستان کے بابائے قوم موہن داس کرم چند گاندھی نے امام حسینؓ کی سیرت کو اپنے سیاسی اور روحانی فلسفے کا مرکز قرار دیا۔

ان کا مشہور قول ہے کہ میری کامیابی کا راز اگر جاننا چاہتے ہو تو حسینؓ کو پڑھو۔ میں نے امام حسینؓ سے سیکھا کہ مظلوم ہو کر بھی کامیابی کیسے حاصل کی جاتی ہے۔

گاندھی کے بقول، کربلا کا واقعہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ظلم کے خلاف خاموشی نہیں بلکہ مزاحمت ہی اصل انسانیت ہے۔

جنوبی افریقہ کے عظیم رہنما نیلسن منڈیلا نے امام حسینؓ کو انصاف کی آواز بلند کرنے والا ایک مثالی انسان قرار دیتے ہوئے کہا کہ امام حسینؓ نے اپنے جان و مال کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ظلم کے خلاف جو قدم اٹھایا، وہ آج بھی دنیا بھر میں مظلوموں کو حوصلہ دیتا ہے۔ یہ قربانی انسانی حقوق کی تحریکوں کا ایک سنگ میل ہے۔

امریکی سول رائٹس موومنٹ کے قائد مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے بھی امام حسینؓ کی قربانی کو غیر متزلزل حق پسندی کی علامت قرار دیا اور کہا کہ کربلا کا درس ہمیں سکھاتا ہے کہ ظلم کے خلاف کھڑے ہونا انسانیت کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ امام حسینؓ کی قربانی نے مظلوموں کو ایک نئی امید دی ہے۔

سابق برطانوی وزیراعظم بینجمن ڈزرائیلی نے امام حسینؓ کی قربانی کو انسانی اخلاقیات کی اعلیٰ مثال قرار دیا اور کہا کہ ایسے رہنما جو اپنے اصولوں پر استقامت کے ساتھ قائم رہیں، تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ امام حسینؓ کی قربانی انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے۔”

فلسفی برٹروٹ راسل نے امام حسینؓ کو ظلم کے خلاف ایک عظیم مزاحمت کار کہتے ہوئے کہاکہ امام حسینؓ نے اپنی جان قربان کر کے دنیا کو یہ سکھایا کہ سچائی اور انصاف کے لیے کھڑا ہونا ہر قیمت پر ضروری ہے۔

Related Posts