برطانیہ کے شہر برمنگھم میں گزشتہ سال جون میں اچانک انتقال کرنے والے 35 سالہ سکھ کارکن اوتار سنگھ کھندا کے مشکوک انتقال نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
برطانوی اخبار دی گارڈین نے اپنی تازہ تحقیقات میں اس واقعہ کو مودی حکومت کی جانب سے ریاستی دہشتگردی کا امکان قرار دیتے ہوئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اوتار سنگھ کھندا برطانیہ میں مقیم ایک سرگرم سکھ کارکن تھے، جو خالصتان تحریک کے حامی سمجھے جاتے تھے۔ ان پر مارچ 2023 میں لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے احتجاج کے دوران بھارتی پرچم اتارنے کا الزام تھا۔
دی گارڈین کے مطابق، کھندا کو کچھ عرصے سے اپنی جان کو خطرہ محسوس ہو رہا تھا۔ ان کے دوستوں نے بتایا کہ وہ اپنی موت سے چند روز قبل خوفزدہ اور غیر معمولی دباؤ میں تھے۔ رپورٹس کے مطابق، کھندا کی موت کے بعد ان کی والدہ اور بہن کو بھارتی حکام نے حراست میں لے رکھا تھا۔
ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں ان کی موت کی وجہ خون کے کینسر کی ایک شدید قسم بتائی گئی، تاہم ان کے خاندان اور وکیل نے شک ظاہر کیا ہے کہ انہیں زہر دیا گیا ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے دوبارہ پوسٹ مارٹم کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں دنیا بھر میں بھارت پر سکھ کارکنوں کے خلاف کارروائیوں کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ کینیڈا، امریکہ اور برطانیہ میں ایسی کئی رپورٹس سامنے آ چکی ہیں جن میں بھارت کی خفیہ ایجنسیوں پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








