آزادی صحافت پر وار؛ مودی حکومت نے رائٹرز کا ایکس اکاؤنٹ بلاک کر دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین شاٹ)

بھارتی حکومت کی جانب سے ایک اور حیران کن اقدام سامنے آیا ہے، جہاں عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کا آفیشل ایکس (سابقہ ٹویٹر) اکاؤنٹ ملک میں بلاک کر دیا گیا ہے۔

بھارتی حکام کی جانب سے رائٹرز کے آفیشل ایکس (سابقہ ٹویٹر) اکاؤنٹ پر پابندی نے آزادیِ اظہارِ رائے اور میڈیا کی خودمختاری کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بھارتی صارفین جب رائٹرز کا آفیشل اکاؤنٹ کھولنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں یہ پیغام ملتا ہے کہ رائٹرز کو قانونی مطالبے کی بنیاد پر بھارت میں محدود کردیا گیا ہے۔

بھارتی وزارتِ اطلاعات نے اب تک اس فیصلے کی کوئی سرکاری وضاحت جاری نہیں کی جبکہ ایکس (X) انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اکاؤنٹ کو قانونی حکم کی روشنی میں محدود کیا گیا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بھارت نے عالمی سطح پر تسلیم شدہ خبر رساں اداروں کو اپنی پالیسیوں پر تنقید کا نشانہ بنایا ہو۔ اس سے قبل بھی متعدد پاکستانی، چینی اور غیر ملکی میڈیا ہاؤسز کو بھارت میں بندش کا سامنا رہا ہے۔

میڈیا ماہرین کے مطابق رائٹرز جیسا معتبر ادارہ جو دنیا بھر میں غیر جانبدار رپورٹنگ کے لیے جانا جاتا ہے، اگر اسے بھارت میں روکا جاتا ہے تو یہ قدم جمہوری اقدار کے منافی سمجھا جائے گا۔

یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایکس (سابقہ ٹویٹر) اور مودی سرکار کے درمیان سنسرشپ قوانین پر قانونی کشمکش جاری ہے۔

ایکس نے بھارت میں متعدد صحافیوں، اپوزیشن رہنماؤں اور سماجی کارکنوں کے اکاؤنٹس بند کرنے کے حکومتی احکامات کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔

رائٹرز کی سوشل میڈیا تک رسائی بند ہونے پر صحافتی تنظیموں، سوشل میڈیا صارفین اور انسانی حقوق کے اداروں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق بھارت میں میڈیا پر دباؤ اور سنسرشپ کی فضا ایک خاموش ایمرجنسی کی عکاسی کر رہی ہے۔

Related Posts