پشاور سے سامنے آنے والی ایک خبر نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک خواجہ سرا کو جنسی تسکین کے لیے ایک کروڑ ستر لاکھ روپے میں خریدا گیا۔
یہ خبر واٹس ایپ گروپس اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہو چکی ہے، جہاں اسے معاشرتی زوال اور دینی و اخلاقی پستی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
خیبرپختونخوا خاص طور پر پشاور اور آس پاس کے علاقوں میں خواجہ سرا اور نوعمر لڑکوں کے ساتھ جنسی فعل کے واقعات کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں متعدد بار ایسی رپورٹس منظر عام پر آ چکی ہیں جن میں اس قسم کے افعال کو ایک عام کلچر کے طور پر پیش کیا گیا۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں اور خواجہ سرا افراد کی نمائندہ تنظیمیں مسلسل اس استحصال کے خلاف آواز بلند کرتی رہی ہیں لیکن ریاستی اداروں کی غفلت اور معاشرتی بے حسی نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
پاکستان میں خواجہ سرا برادری کو تعلیم، روزگار اور تحفظ کے مساوی مواقع حاصل نہیں جس کے باعث یہ افراد اکثر رقص، بھیک مانگنے اور جسم فروشی جیسے غیر اخلاقی ذرائع کو اپنانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
پشاور جیسے علاقوں میں ان افراد کو تفریح، جنسی تسکین یا بدترین استحصال کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور ان کے ساتھ ہونے والے ظلم و زیادتی کے واقعات کو معمولی سمجھ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
اس مخصوص خبر کے مطابق ایک شخص نے مبینہ طور پر ایک خواجہ سرا کو کروڑوں روپے دے کر جنسی تسکین کا ذریعہ بنایا جو نہ صرف ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ کیا پاکستانی معاشرہ اب مکمل طور پر انسانی اقدار اور دینی تعلیمات سے دور ہو چکا ہے؟
سوشل میڈیا پر وائرل پیغامات میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ کئی افراد نے قرآن و حدیث کے حوالے دیتے ہوئے اس عمل کو “قوم لوط کے اعمال” سے تشبیہ دی ہے اور خدائی عذاب کے امکان کا ذکر کیا ہے۔
عوامی مطالبات میں واضح طور پر کہا جا رہا ہے کہ پولیس اور متعلقہ ادارے فوری ایکشن لیں، اس واقعے کی حقیقت تک پہنچیں اور اگر خبر درست ہو تو ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یہ واقعہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پوری قوم کی اخلاقی گراوٹ کا عکاس ہے۔ اگر ریاست اور معاشرہ خاموش رہا تو یہ خاموشی جرم بن جائے گی اور ایسی بے راہ روی کا انجام کسی بھی قوم کے لیے تباہی ہوتا ہے۔
خواجہ سرا برادری کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں بارہا یہ مطالبہ کر چکی ہیں کہ حکومت ایسے افراد کے لیے باعزت روزگار، تعلیم اور رہائش کے مواقع فراہم کرے تاکہ وہ مجبوری کی زندگی سے نکل کر ایک باوقار شہری کے طور پر زندگی گزار سکیں۔
اس کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ جسم فروشی، جنسی استحصال اور خرید و فروخت جیسے جرائم پر کڑی نظر رکھیں اور مجرموں کو نشانِ عبرت بنائیں۔ پشاور کا یہ واقعہ خواہ سچ ہو یا افواہ مگر یہ ایک تلخ حقیقت کی یاد دہانی ضرور ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات اب سنجیدگی کے بجائے سنسنی خیزی بن چکے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








