برطانیہ کی معروف گلوکارہ للی ایلن نے حالیہ پوڈکاسٹ میں ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے، انہوں نے کھلے دل سے اعتراف کیا کہ انہیں یاد ہی نہیں کہ انہوں نے کتنی بار اسقاط حمل کروایا۔
للی ، جو ماضی میں ’22‘ جیسے مقبول گانوں سے شہرت حاصل کر چکی ہیں، اب اپنی ذاتی زندگی کے تجربات کو پوڈکاسٹ ’مس می؟‘ کے ذریعے عوام کے ساتھ شیئر کر رہی ہیں۔
اس پوڈکاسٹ کی میزبانی وہ اپنی قریبی دوست میکویٹا اولیور کے ساتھ کرتی ہیں، جہاں دونوں خواتین بغیر کسی جھجک کے ان موضوعات پر گفتگو کرتی ہیں جن پر عام طور پر بات کرنا ممنوع سمجھا جاتا ہے۔
حالیہ قسط میں گفتگو کرتے ہوئے للی نے بتایا کہ ایک وقت تھا جب انہیں بار بار حمل ٹھہرتا تھا۔ انہوں نے کہاکہ مجھے بارہا حمل ٹھہرتا تھا، بار بار۔ کئی بار اسقاط حمل کروایا لیکن سچ پوچھیں تو مجھے صحیح تعداد یاد نہیں۔ شاید چار یا پانچ بار۔
ان کی دوست میکویٹا نے بھی کھل کر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بھی تقریباً پانچ بار اسقاط حمل کروایا ہے۔
للی نے ایک واقعہ بھی یاد کیا جب انہیں حمل ٹھہرا اور جس مرد کی وجہ سے یہ ہوا، اس نے اسقاط حمل کے اخراجات اٹھائے۔
یہ کوئی سخاوت یا محبت کا مظاہرہ نہیں تھا، یہ بس ایک سرمایہ کاری تھی۔ صرف پانچ سو پاؤنڈ کا خرچ جبکہ بچوں کو پالنا اس سے کہیں زیادہ مہنگا ہوتا ہے۔
گفتگو کے دوران دونوں خواتین نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس دور میں بھی اسقاط حمل جیسے موضوعات پر کھل کر بات کرنا لوگوں کے لیے مشکل ہوتا ہے۔
للی ایلن نے کہا کہ انہیں سب سے زیادہ جس بات سے چڑ ہوتی ہے وہ یہی سماجی رویہ ہے کہ عورت کو اپنے فیصلے پر شرمندہ ہونا پڑے۔
انہوں نے کہا لپ لوگ اسقاط حمل کو جائز ثابت کرنے کے لیے عجیب و غریب مثالیں دیتے ہیں، جیسے ’میری خالہ کا بچہ معذور پیدا ہوا،‘ یا ’اگر وہ پورا حمل کرتی تو مر جاتی‘۔ مجھے تو ان باتوں پر غصہ آتا ہے۔ بس اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ مجھے ابھی بچہ نہیں چاہیے۔ یہی ایک مکمل وجہ ہے۔
میکویٹا اولیور نے بھی اعتراف کیا کہ انہیں کبھی یہ بات ماننے میں شرمندگی محسوس ہوتی تھی کہ انہوں نے ایک سے زیادہ بار اسقاط حمل کروایا ہے لیکن اب وہ کہتی ہیں کہ عورت کو اپنے جسم پر اختیار ہونا چاہیے اور کسی کو اس پر شرمندہ کرنے کا حق نہیں۔
اس گفتگو کے اختتام پر دونوں نے امید ظاہر کی کہ ایسی باتیں کھل کر کرنے سے شاید دوسرے لوگ بھی کم اکیلا محسوس کریں اور معاشرہ ان موضوعات کو کم ممنوع سمجھے۔
للی ایلن، جو اب دو بیٹیوں مارنی روز (12 سال) اور ایتھل میری (13 سال) کی ماں ہیں، اپنی ذاتی زندگی کے تجربات کو بنیاد بنا کر خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ عورت کے فیصلے پر اعتماد ہونا چاہیے اور اگر وہ کہے کہ اُسے ابھی بچہ نہیں چاہیے تو یہ خود ایک مکمل اور جائز وجہ ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








