کراچی کے قدیمی اور گنجان آباد علاقے لیاری کے بغدادی محلے میں پانچ منزلہ رہائشی عمارت کے المناک انہدام کے نتیجے میں مرنے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 27 ہو گئی ہے، ریسکیو ٹیموں نے ملبے سے تمام لاشیں نکال لی ہیں جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔
عمارت کا انہدام 4 جولائی 2025 کی صبح ہوا جس کے بعد لیاری کے بغدادی علاقے میں کہرام مچ گیا۔ ضلعی انتظامیہ نے جائے حادثہ کو مکمل طور پر سیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ اس واقعے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے فوری تحقیقاتی اجلاس طلب کر لیا اور واقعے میں غفلت برتنے والے تمام عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا وعدہ کیا۔
وزیراعلیٰ نے انکشاف کیا کہ کراچی میں 480 سے زائد عمارتیں خطرناک قرار دی جا چکی ہیں تاہم ان میں رہائش پذیر افراد جب انہیں خالی کرنے کو کہا جاتا ہے، تو وہ متبادل رہائش اور سیکورٹی کا مطالبہ کرتے ہیں جو انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
اس افسوسناک واقعے کے باوجود لیاری کے علاقے آگرا تاج میں ایک اور سات منزلہ رہائشی عمارت میں بڑے شگاف نمودار ہو چکے ہیں لیکن اب تک اس عمارت کو خالی نہیں کرایا گیا۔
یہ عمارت اپریل میں ناقابل رہائش قرار دی گئی تھی لیکن اس کے باوجود 12 یونٹس میں تقریباً 10 خاندان تاحال مقیم ہیں۔ مکینوں کا الزام ہے کہ بلڈر نے صرف عمارت پر رنگ و روغن کر کے اس کی حالت کو بہتر ظاہر کرنے کی کوشش کی۔
ادھر کراچی کے تاریخی علاقے کھارادر میں ایک اور خطرناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک بلڈر نے غیر قانونی طور پر ایک ثقافتی ورثے کی حامل عمارت کو بھاری مشینری سے گرانے کی کوشش کی۔
عمارت کوئلہ گودام کے قریب واقع تھی۔ جیسے ہی مشینری سے گرانے کا عمل شروع ہوا، قریبی رہائشی عمارت میں لرزہ محسوس ہوا جس سے اس کے منہدم ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ مقامی رہائشیوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی سرگرمی کو روکا اور محکمہ آثار قدیمہ کو مطلع کیا۔
محکمہ آثار قدیمہ کی ٹیم ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی قیادت میں موقع پر پہنچی اور پولیس کی مدد سے دو افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ حکام نے تصدیق کی کہ بلڈر ایک ایسی عمارت کو گرانے کی کوشش کر رہا تھا جسے قانوناً سیل کر دیا گیا تھا اور یہ ایک محفوظ شدہ تاریخی عمارت تھی۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق لیاری کی جس عمارت کا انہدام ہوا، اسے پہلے ہی خطرناک قرار دیا جا چکا تھا اور متعدد نوٹسز بھی جاری کیے گئے تھے جبکہ علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ انہیں کسی قسم کا نوٹس موصول نہیں ہوا۔
ایس بی سی اے کے مطابق کراچی میں اس وقت 578 خطرناک عمارتیں موجود ہیں، جن میں سب سے زیادہ تعداد ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں ہے۔
کراچی کمشنر حسن نقوی نے جائے حادثہ کا دورہ سانحے کے 13 گھنٹے بعد کیا، اور اس موقع پر انہوں نے ذمہ داری مکینوں پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود ان عمارتوں میں رہ کر اپنی اور اپنے خاندان کی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو خود اپنی سلامتی کو ترجیح دینی چاہیے اور زبردستی نکالنا کسی بھی انتظامیہ کے لیے ایک تکلیف دہ عمل ہے۔
یہ تمام واقعات شہر میں غیر قانونی تعمیرات، ناقص تعمیراتی معیار، اور انتظامیہ کی ناقص نگرانی پر سوالیہ نشان ہیں۔ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو ایسے سانحات کا تسلسل جاری رہ سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








