ٹیکساس میں ہولناک سیلاب سب کچھ بہاکر لے گیا، 67 افراد ہلاک، 28 بچے بھی شامل

تازہ ترین

تازہ ترین

امریکی ریاست ٹیکساس کے پہاڑی علاقے ہنٹ میں تباہ کن سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 67 تک پہنچ گئی ہے جن میں 28 بچے بھی شامل ہیں۔

یہ المیہ اس وقت پیش آیا جب چار جولائی کے موقع پر شدید بارش کے نتیجے میں گواڈالوپ دریا کی سطح بلند ہو گئی اور اس نے کناروں کو توڑتے ہوئے اطراف کی آبادیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

اس سیلاب میں مسیحی لڑکیوں کے سمر کیمپ مسٹک کی 11 طالبات اور ایک خاتون رہنما لاپتہ ہو گئیں۔ ان کی تلاش تیسرے دن بھی جاری رہی۔

ٹریوس کاؤنٹی میں چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 13 افراد لاپتہ ہیں۔ کینڈل کاؤنٹی اور برنیٹ کاؤنٹی میں بھی اموات کی اطلاع ملی ہے، جن میں دو مزید افراد جاں بحق ہوئے۔

سان اینجلو شہر میں ایک خاتون کی لاش اس کی ڈوبی ہوئی گاڑی سے ملی ہے۔کر کاؤنٹی میں 59 اموات کی اطلاعات ہیں، 18 بالغ اور 4 بچوں کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی ۔

حکام کے مطابق اس قدرتی آفت کے دوران 850 سے زائد افراد کو بچایا گیا جن میں کچھ لوگ درختوں سے چمٹے ہوئے تھے۔

خطے میں ایک دن کے دوران تقریباً 15 انچ (38 سینٹی میٹر) بارش ریکارڈ کی گئی جس نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ قومی موسمیاتی ادارے نے وسطی ٹیکساس میں سیلاب کی مزید وارننگز اور ایڈوائزری جاری کی ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بڑے پیمانے پر آفت کا اعلان کیے جانے کے بعد وفاقی ہنگامی امدادی ادارہ فعال کر دیا گیا ہے اور اس کی ٹیمیں امدادی کاموں میں حصہ لے رہی ہیں۔ امریکی کوسٹ گارڈ کے ہیلی کاپٹر اور طیارے بھی تلاش اور بچاؤ کی کوششوں میں شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ حکومت کی جانب سے نیشنل ویڈر سروس اور اس کے تحت کام کرنے والے اداروں میں ہزاروں ملازمین کی چھانٹی سے موسم کی درست پیش گوئی متاثر ہوئی اور اس آفت کے بارے میں بروقت انتباہ جاری نہیں ہو سکا۔

سابق ڈائریکٹر رک اسپنراد کے مطابق یہ کٹوتیاں محکمہ کی کارکردگی پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔

امریکی کانگریس کے رکن جوآکین کاسٹرو نے خبردار کیا ہے کہ عملے کی کمی کی وجہ سے ایسی قدرتی آفات میں جانی نقصان بڑھ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوری تجزیے اور درست پیش گوئی کے لیے ماہر عملے کی ضرورت ہوتی ہے۔

سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ کیمپ مسٹک تقریباً ایک صدی پرانا لڑکیوں کا کیمپ ہے، جہاں واقعے کے وقت 700 سے زائد لڑکیاں موجود تھیں۔

کیمپ کی ایک رضاکارکیتھرین سمر وِلی نے بتایا کہ ان کیمپوں میں بھی، جو اونچائی پر واقع تھے، پانی داخل ہو گیا اور بجلی منقطع ہو گئی، جس سے کیمپ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ انہوں نے بتایا کہ فوجی ٹرکوں کے ذریعے لڑکیوں کو بحفاظت نکالا گیا۔

سیلاب کے بعد کیمپ کے مناظر تباہ کن تھے۔ کیبنوں کے اندر کیچڑ کی لکیریں چھ فٹ تک بلند تھیں۔ بستر، گدے اور ذاتی سامان کیچڑ سے اٹے ہوئے تھے، کھڑکیاں ٹوٹ چکی تھیں، بعض عمارتوں کی دیواریں گر چکی تھیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق کیمپ ڈائریکٹر رچرڈ ڈک ایسٹ لینڈ جو خود بھی بچپن میں اسی کیمپ سے وابستہ رہے، لڑکیوں کو بچاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے۔

یہ المناک واقعہ امریکی ریاست ٹیکساس کو شدید صدمے سے دوچار کر گیا ہے اور کئی خاندانوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا۔ حکام کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں لیکن اس واقعے نے قدرتی آفات کے خلاف تیاریوں اور حکومتی اقدامات پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔

Related Posts