کراچی کے علاقے لیاری میں غیرقانونی عمارت گرنے سے 27 قیمتی جانوں کے ضیاع نے نہ صرف سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں بلکہ اس ادارے کے اندر موجود منظم کرپشن کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔
عوامی دباؤ اور میڈیا کی توجہ کے بعد اگرچہ سندھ حکومت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ڈی جی ایس بی سی اے اسحاق کھوڑو کو معطل کر دیا مگر اصل سوال اب یہ ہے کہ کرپٹ ڈائریکٹر ڈیمولیشن عبدالسجاد خان کے خلاف کون کارروائی کرے گا؟
متاثرہ عمارت کے مکینوں اور بلڈرز نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں کہ عبدالسجاد خان نے غیرقانونی تعمیرات کی اجازت دینے اور کام رکوانے سے چشم پوشی کے عوض مجموعی طور پر 15 لاکھ روپے رشوت وصول کی۔ پہلے دس لاکھ روپے تعمیرات جاری رکھنے کی مد میں مانگے گئے اور جب عمارت آخری مراحل میں تھی تو مزید پانچ لاکھ روپے کی ادائیگی کا تقاضا کیا گیا۔
یہ الزامات اُس وقت مزید تقویت پکڑ گئے جب مقامی نیوز کی ٹیم عبدالسجاد خان سے براہ راست سوال کرنے پہنچی تو انہوں نے نہ صرف ڈائریکٹر ہونے سے انکار کیا بلکہ کیمرے سے اپنی شناخت چھپانے کی کوشش بھی کی۔
سانحہ کے بعد وزیراعلیٰ سندھ نے شدید نوٹس لیتے ہوئے نہ صرف ڈی جی کو معطل کیا، بلکہ 588 خستہ حال عمارتوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے، ان میں رہائش پذیر افراد کا ڈیٹا جمع کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
متاثرہ مکینوں نے ایک اور خوفناک انکشاف کیا ہے کہ ایس بی سی اے کے اہلکار سانحے سے چند دن پہلے دو لاکھ روپے فی خاندان رشوت مانگ رہے تھے تاکہ عمارت خالی کروا کر اسے منہدم کر کے کسی بااثر بلڈر کو الاٹ کی جا سکے۔ یہ سازش اس بات کا ثبوت ہے کہ لیاری میں انسانوں کی جانوں سے زیادہ اہمیت بلڈر مافیا کے مفادات کو حاصل ہے۔
ایک طرف ڈی جی کی معطلی کو میڈیا میں بڑا اقدام ظاہر کیا جا رہا ہے مگر دوسری طرف وہ افسر جو براہِ راست رشوت میں ملوث ہے، اب بھی آزاد گھوم رہا ہے۔ کیا عبدالسجاد خان پر صرف اس لیے ہاتھ نہیں ڈالا جا رہا کہ وہ کسی بڑے نظام کا حصہ ہے؟ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو صرف کاغذی کارروائیوں یا انکوائری رپورٹس سے کام نہیں چلے گا۔
لیاری کی عوام سوال کر رہی ہے کہ ڈی جی کو معطل کر دیا گیا، مگر کرپٹ ڈائریکٹر ڈیمولیشن کا احتساب کون کرے گا؟
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








