ٹیکساس میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 100 سے تجاوز، اموات بڑھنے کا خدشہ

تازہ ترین

تازہ ترین

Texas flood toll passes 100
KUNA

ٹیکساس میں تباہ کن سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ امدادی کارکن اب بھی پانی کے تیز بہاؤ میں بہہ جانے والے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

یہ المناک صورتحال اُس وقت پیش آئی جب جولائی کی چار تاریخ کے اختتام ہفتہ پر ہونے والی شدید بارشوں نے کیر کاؤنٹی سمیت کئی علاقوں کو بری طرح متاثر کیا۔

ہلاک ہونے والوں میں 27 بچیاں اور ان کی نگرانی پر مامور رضاکار شامل ہیں، جو دریا کے کنارے ایک کیمپ میں مقیم تھیں۔

ماہرین موسمیات نے مزید بارشوں اور زمین کی نمی کے سبب مزید سیلابی صورتحال کی پیش گوئی کی ہے جس کے باعث امدادی کارروائیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔

ہیلی کاپٹر، کشتیاں اور تلاشی کے لیے تربیت یافتہ کتے استعمال کیے جا رہے ہیں تاہم خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعہ کے روز متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کیا گیا ہے کہ محکمہ موسمیات کے بجٹ میں کٹوتی اور عملے کی کمی اس تباہی کی ایک وجہ بنی۔

ترجمان وائٹ ہاؤس نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ صدر ٹرمپ کو اس المیے کا موردِ الزام ٹھہرانا بد نیتی پر مبنی جھوٹ ہے اور قومی سوگ کے موقع پر یہ رویہ انتہائی افسوسناک ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ موسمیات نے بروقت اور درست انتباہ جاری کیے تھے، حالانکہ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹیکساس میں کئی اہم عہدے خالی تھے۔ صدر ٹرمپ نے اس واقعے کو صدی کا سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو اس کی توقع نہیں تھی۔

ابتدائی طور پر صدر ٹرمپ نے ہنگامی امداد کو ریاستی سطح پر محدود رکھنے کی پالیسی اختیار کی تھی تاہم اب انہوں نے ایک اہم وفاقی آفتی اعلان پر دستخط کیے ہیں، جس سے نئے فنڈز جاری اور وسائل مہیا کیے جا رہے ہیں۔

امریکی ریاستوں میں گرمیوں کے کیمپ ایک دیرینہ روایت کا حصہ ہوتے ہیں، جہاں بچے دیہی، جنگلاتی یا پارکوں میں قیام کرتے ہیں۔

ریاست ٹیکساس کے سینیٹر ٹیڈ کروز نے کہا کہ یہ کیمپ بچوں کے لیے عمر بھر کی دوستیاں بنانے کا موقع ہوتے ہیں لیکن یہ لمحے اچانک ایک المیے میں بدل گئے۔

Related Posts