ملک میں طوفانی بارشیں، حادثات میں 19 افراد لقمہ اجل، سیلاب کا الرٹ جاری

تازہ ترین

تازہ ترین

River flows decrease in Punjab, no more rains forecast
(Image: Anwarullah / Dawn)

نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے ملک کے مختلف حصوں میں آئندہ دو روز کے دوران موسلا دھار بارشوں اور ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے جبکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں مون سون بارشوں کے دوران حادثات میں 19 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے مختلف علاقوں بالخصوص بڑے دریاؤں کے بالائی علاقوں میں درمیانے سے شدید درجے کی بارشیں جاری رہیں گی جس کے باعث ندی نالوں میں طغیانی اور فلیش فلڈز کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

اس تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ پر رہنے اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

بلوچستان میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران مون سون کی حالیہ لہر سے کم از کم سات افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق، صوبے کے 22 اضلاع بارشوں سے متاثر ہوئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ بارشوں اور ممکنہ طغیانی کے بارے میں پیشگی انتباہ جاری کیا گیا تھا۔ اتھارٹی نے سات ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے جبکہ 22 مکانات کو نقصان پہنچا اور پانچ مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔

سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں آوران، جھل مگسی، خضدار، موسیٰ خیل، قلعہ سیف اللہ، بارکھان، کوہلو، لورالائی، ژوب اور شیرانی شامل ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق شمالی، جنوبی اور وسطی بلوچستان کے 22 اضلاع اب بھی بارش کی لپیٹ میں ہیں اور صورتحال بدستور نازک ہے۔

راولپنڈی اور اسلام آباد میں الگ الگ بارش کے دوران ہونے والے حادثات میں کم از کم چھ افراد، جن میں تین بچے بھی شامل ہیں، پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔

خیبر پختونخوا کے اضلاع مالاکنڈ، بونیر، مانسہرہ اور کرک میں بھی بارش کے نتیجے میں مختلف حادثات میں چھ افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

Related Posts