بھارتی حکومت نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران تین رافیل فائٹر طیاروں کے پائلٹس سمیت متعدد فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کو بالآخر خاموشی سے تسلیم کر لیا ہے۔
بھارت نے ابتدا میں کسی بھی قسم کے جانی نقصان کی سختی سے تردید کی تھی تاہم اندرونی سطح پر بڑھتے دباؤ اور عسکری حلقوں کی تنقید کے باعث حکومت کو یہ اعتراف کرنا پڑا۔
مختلف سیکورٹی ذرائع اور میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کو آپریشن سندور کے دوران خاص طور پر لائن آف کنٹرول کے قریب شدید جانی نقصان اٹھانا پڑا جس میں 250 سے زائد بھارتی فوجی ہلاک ہوئے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ بھارتی حکومت نے ان ہلاکتوں کو سرکاری طور پر تسلیم کیا ہے جب 100 سے زائد اہلکاروں کو بعد از مرگ اعزازات سے نوازا گیا، جن میں چار بھارتی فضائیہ کے پائلٹس شامل تھے، جن میں تین وہ تھے جو رافیل طیارے اڑا رہے تھے۔
اس کے علاوہ ایس 400 ایئر ڈیفنس سسٹم کے پانچ آپریٹرز اور متعدد فوجی اڈوں کے اہم تکنیکی عملہ بھی ان میں شامل تھے۔ اودھم پور ایئربیس سے تعلق رکھنے والے 9 اہلکار، راجوڑی بیس سے 2، اور اُڑی کے سپلائی ڈپو سے 4 اہلکار بھی ان ہلاکتوں کی فہرست میں شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں کے خاندانوں کو سوشل میڈیا پر تصاویر یا خراج تحسین پوسٹ نہ کرنے کی خصوصی ہدایات دی گئی ہیں تاکہ ان نقصانات کی شدت عوامی سطح پر سامنے نہ آ سکے۔
بھارتی حزبِ اختلاف اور ناقدین نے حکومت کی دوغلی پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اگر کوئی ہلاکت نہیں ہوئی تو پھر بعد از مرگ اعزازات کس بنیاد پر دیے جا رہے ہیں۔
بھارت نے اس سے قبل پٹھان کوٹ اور اودھم پور جیسے حساس فضائی اڈوں پر کسی بھی جانی یا مالی نقصان کی رپورٹس کو مسترد کر دیا تھا تاہم حالیہ اعترافات نے ان دعوؤں کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








