سونے کی فی تولہ قیمت میں ایک لاکھ 8 ہزار کا اضافہ؛ سرمایہ کاروں کی موجیں لگ گئیں

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان میں گزشتہ مالی سال (2024–25) کے دوران سونے کی قیمت میں بے تحاشا اضافہ ہوا، جس کا تعلق بین الاقوامی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ، روپے کی قدر میں کمی، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور سرمایہ کاروں کی سونے کی جانب رجحان سے ہے۔

گزشتہ مالی سال کے آغاز (29 جون 2024) پر ایک تولہ 24 قیراط سونے کی قیمت 241,700 روپے تھی، جو کہ 30 جون 2025 تک 350,200 روپے تک پہنچ گئی، اس طرح قیمت میں مجموعی طور پر 108,500 روپے کا اضافہ ہوئے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 207,219 روپے سے بڑھ کر 300,240 روپے ہو گئی، یعنی تقریباً 93,000 روپے کا اضافہ دیکھا گیا۔

عالمی سطح پر بھی سونا مہنگا ہوا۔ مالی سال کے دوران ایک اونس سونے کی قیمت $2,326 سے بڑھ کر تقریباً $3,282 تک پہنچ گئی، جو کہ $956 کا اضافہ ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ عالمی سیاسی و اقتصادی مشکلات نے سونے کو ’محفوظ سرمایہ‘ کی حیثیت دی، جس سے بین الاقوامی مانگ بڑھی۔

پاکستانی روپیہ بھی ڈالر کے مقابلے میں 1.95 فیصد کمزور ہوا، ہوا سے اس نے مالی سال ختم ہونے تک تقریباً 5.42 روپے کی کمی دیکھی ۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی کے باعث درآمدی زیورات سستے دستیاب نہ ہو سکے اور گولڈ مارکیٹ تک اس کا اثر ملا ۔

صرافہ ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں اور مقامی سطح پر بھی اگر روپے کی قدر میں کمی جاری رہی تو سونے کی قیمتوں میں اضافہ کا رجحان برقرار رہے گا۔

اس طرح گزشتہ مالی سال میں پاکستان میں سونے کی قیمتوں نے سرمایہ کاروں کو تقریباً 45 فیصد منافع فراہم کیا، جو کہ ایک قابل ذکر پرفارمنس سمجھا جاتا ہے ۔

Related Posts