غزہ میں جاری جنگ کے اثرات صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی و نفسیاتی بھی ہیں، خاص طور پر بچوں کے لیے جو اس بحران میں سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
ناصر اسپتال خان یونس میں ایک 16 ماہ کی بچی، شام، اپنی دادی ام یاسمین کی گود میں تیز بخار اور جسم کی اکڑن کے ساتھ روتی ہوئی نظر آئی۔ام یاسمین نے بتایا کہ “ہمیں ایمبولینس تک نہیں ملی، بچی موت کے دہانے پر تھی، اور ہم اسے علاج کے لیے لے جانے کی کوشش کر رہے تھے”۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور “ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز” نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کے نتیجے میں دماغی انفیکشن (میننجائٹس) کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ میں بچوں میں میننجائٹس کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، جس پر وہ بہت فکرمند ہیں۔
غزہ میں عام طور پر جون سے اگست کے دوران وائرل میننجائٹس کے کیسز میں موسمی اضافہ ہوتا ہے، لیکن اس بار ناقص صفائی، ناکافی طبی سہولتیں اور بچوں کی ویکسینیشن میں تعطل جیسے اضافی عوامل بھی بیماری کے پھیلاؤ کا سبب بن رہے ہیں۔
غزہ کے اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور بنیادی اینٹی بایوٹکس کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ “ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز” کے غزہ میں نائب طبی رابط کار ڈاکٹر محمد ابو مغیصیب کے مطابق ہسپتالوں میں بیڈ دستیاب نہیں، نہ الگ تھلگ رکھنے کی گنجائش۔
ناصر اسپتال خان یونس میں بچوں اور زچگی کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر احمد الفرا کے مطابق گزشتہ ہفتے وائرل اور بیکٹیریائی میننجائٹس کے کم از کم 40 کیسز سامنے آئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور کی ایک رپورٹ کے مطابق شمالی غزہ کے شہر میں واقع الرنتیسی بچوں کے ہسپتال میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سینکڑوں کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر ابو مغیصیب کا کہنا ہے کہ بیکٹیریا کی شناخت کے لیے ضروری ٹیسٹ اور خون کے نمونوں کی دستیاب سہولت نہ ہونے کے باعث درست تشخیص میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ہوا سے پھیلنے والا بیکٹیریائی میننجائٹس جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے اور وہ خیمہ بستیوں میں آسانی سے پھیل سکتا ہے، جب کہ وائرل میننجائٹس، جو نسبتاً کم خطرناک ہے، وہ ناقص صفائی والے پناہ گزین کیمپوں میں تیزی سے پھیلنے کا خدشہ رکھتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








