پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کے روز کاروباری سیشن کے دوران اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا، جہاں کے ایس ای-100 انڈیکس نے مثبت اور منفی دونوں سمتوں میں حرکت کی تاہم معمولی تیزی کے ساتھ بند ہوا۔
کاروبار کے ابتدائی گھنٹوں میں فروخت کے دباؤ کے باعث انڈیکس ایک وقت میں 132,696.35 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک گر گیا۔ تاہم جیسے جیسے سیشن آگے بڑھا، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوتا گیا، اور انڈیکس نے 134,000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کرتے ہوئے انٹرا ڈے بلند ترین سطح 134,200.27 پوائنٹس تک جا پہنچا۔
آخری گھنٹوں میں منافع خوری کے رجحان نے مارکیٹ کی تیزی کو محدود کر دیا اور دن کے اختتام پر کے ایس ای-100 انڈیکس 33.05 پوائنٹس یا 0.02 فیصد اضافے کے ساتھ 133,403.19 پوائنٹس پر بند ہوا۔
سرمایہ کاری کمپنی این بی پی فنڈز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر آئی ایم ایف کی معاونت سے جاری اصلاحات پر مکمل عمل درآمد کیا گیا تو موجودہ تیزی مزید جاری رہ سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان اصلاحات میں مالی نظم و ضبط، ٹیکس نیٹ میں توسیع، سرکاری اداروں کی نجکاری، اور سبسڈی کا مرحلہ وار خاتمہ شامل ہے۔
قبل ازیں خریداری کا رجحان کئی اہم شعبوں میں دیکھا گیا جن میں آٹوموبائل اسمبلرز، کمرشل بینکس، سیمنٹ، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز) اور پاور جنریشن شامل ہیں۔ حبکو، ایس ایس جی سی اور ایس این جی پی ایل جیسے بڑے اسٹاکز مثبت زون میں ٹریڈ کرتے نظر آئے۔
پیر کے روز پی ایس ایکس نے ریکارڈ توڑ تیزی کا مظاہرہ کیا تھا، جہاں کارپوریٹ منافع کی بہتر توقعات، تجارتی دباؤ میں کمی، اور معاشی اشاریوں میں بہتری کے باعث مارکیٹ کا رجحان انتہائی پرجوش تھا۔ کے ایس ای-100 انڈیکس میں 1,421 پوائنٹس یا 1.08 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ 133,370 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








