وفاقی حکومت کا بڑا کارنامہ؛ مقررہ مدت سے قبل 1 اعشاریہ 5 کھرب کا قرضہ واپس کردیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان نے مالی سال 2025 میں ایک اہم مالیاتی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 1.5 کھرب روپے کا عوامی قرضہ مقررہ مدت سے پہلے ادا کر دیا ہے، جو حکومت کی مالی نظم و ضبط اور طویل المدتی استحکام کے عزم کا مظہر ہے۔

وزارت خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے اس بات کا انکشاف کیا کہ حکومت نے اسٹیٹ بینک پاکستان کو واجب الادا 500 ارب روپے کا قرض 2029 کی مقررہ مدت سے پورے چار سال قبل ادا کر دیا ہے۔ یہ قبل از وقت ادائیگی قرض انتظامی حکمت عملی میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، جس سے ملک کی مالی بنیادیں مضبوط ہوئی ہیں۔

اس اقدام کے نتیجے میں پاکستان کا قرض-بمقابلہ-جی ڈی پی تناسب 2023 میں 75 فیصد سے کم ہو کر 2025 میں 69 فیصد تک آ گیا ہے۔ اس کے علاوہ، عوامی قرض کی اوسط میعاد 2.70 سال سے بڑھ کر تقریباً 3.75 سال ہو گئی ہے جس سے دوبارہ قرض لینے کے خطرات کم ہوئے ہیں اور ترقیاتی ترجیحات کے لیے مالی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔

مزید برآں، شرح سود میں نمایاں کمی، محتاط قرض لینا، بروقت ادائیگیاں، اور اسٹریٹجک ری فائنانسنگ کے امتزاج سے حکومت نے مالی سال 2025 میں سودی ادائیگیوں پر 830 ارب روپے کی بچت کی ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف قرض میں کمی کا باعث بنے ہیں بلکہ ایک مضبوط، باوقار اور مالی طور پر مستحکم پاکستان کی تشکیل کی جانب ایک قدم اور بڑھایا ہے۔

یہ پیش رفت حکومت کی مالیاتی نظم و ضبط اور دور اندیش معاشی حکمرانی کے پختہ عزم کا عکاس ہے، جو ملک کی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔

Related Posts