90 یونٹس پر 1500 اور 99 یونٹس پر 5220 کا بل، ایس ایس جی سی کی بھتہ خوری سے عوام پریشان

تازہ ترین

تازہ ترین

"From 1500 for 90 Units to 5220 for 99: SSGC’s Extortion Shocks Consumers"
ONLINE

ایک جانب ملک بھر میں مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے تو دوسری جانب سرکاری ادارے بھی مافیا بن کر غریبوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے لگے ہیں، سوئی سدرن گیس کمپنی پر حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے بھتہ خوری کے اسکینڈل نے شہریوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔

صارفین کی شکایات اور میڈیا رپورٹس سے انکشاف ہوا ہے کہ گیس کمپنی نے معمولی یونٹس پر ہزاروں روپے کے بل بھیج کر شہریوں کی کمر توڑ دی ہے۔

ایک شہری نے سوشل میڈیا پر انکشاف کیا ہے کہ 90 یونٹس کے استعمال پر 1500 روپے جبکہ 99 یونٹس کے معمولی فرق پر 5220 روپے کا ناقابلِ فہم بل جاری کیا گیا۔

From 1500 for 90 Units to 5220 for 99: SSGC’s Extortion Shocks Consumers

حیرت انگیز طور پر صرف 9 یونٹس کے فرق سے بل میں تقریباً 3اعشاریہ 5 گنا اضافہ کر دیا گیا، جو نہ صرف غیر منطقی بلکہ صریحاً ظالمانہ اقدام ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کے بعد اب پیش خدمت ہے سوئی گیس مافیا، جو بھتہ خوری کا نیا چہرہ بن کر سامنے آئی ہے۔

نیو کراچی سیکٹر فائیو ای کے رہائشی صارف نے شکایت کی ہے کہ چھ ماہ سے علاقے میں گیس نہیں آ رہی جبکہ بلز باقاعدگی سے موصول ہو رہے ہیں۔

From 1500 for 90 Units to 5220 for 99: SSGC’s Extortion Shocks Consumers

شکایت کنندہ نے سوال اٹھایا ہے کہ بیوہ خواتین سلنڈر پر ہزاروں روپے خرچ کریں یا بچوں کو روٹی کھلائیں؟ صارف کا کنزیومر نمبر 8318729268 بھی فراہم کیا گیا ہے تاکہ اس زیادتی کے خلاف کارروائی ہو۔

ایک اور صارف نے اپنے گیس بل میں موجود غیر واضح چارجز کی نشاندہی کی ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ پی یو جی چارجز کی طرح ایک اور نیا حربہ ہے جس کے ذریعے عام صارف کو نچوڑا جا رہا ہے۔ شکایت کنندگان رہنمائی چاہتے ہیں کہ کیا ان چارجز کو قانونی طور پر ہٹوانا ممکن ہے یا یہ بھی ایک اور مستقل لوٹ مار ہے؟

From 1500 for 90 Units to 5220 for 99: SSGC’s Extortion Shocks Consumers

ایم ایم نیوز کی تفصیلی رپورٹس کے مطابق ایس ایس جی سی کے اندر ایک منظم کرپشن نیٹ ورک کام کر رہا ہے جو نہ صرف گیس کی چوری میں ملوث ہے بلکہ جعلی چارجز، جعلی میٹر ریڈنگ، اور فرضی بلنگ جیسے اقدامات سے اربوں روپے ہڑپ کر چکا ہے۔

گیس ملے نہ ملے بل تو دینا ہوگا! گیس کمپنی نے بھی کراچی کے شہریوں سے بھتہ خوری شروع کردی

ایس ایس جی سی کا نیا اسکینڈل منظرِ عام پر آنے کے بعد عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

متاثرہ صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ ایس ایس جی سی کی تمام بلنگ پالیسیوں اور چارجز کی اعلیٰ سطح پر شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور بلوں پر لگائے گئے تمام اضافی اور غیر قانونی چارجز کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

گیس چوری میں ایس ایس جی سی کا عملہ و افسران شریک جرم، عوام کی سزا اوور بلنگ

شہریوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، چیئرمین نیب، ایف آئی اے، محتسب اعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایس ایس جی سی کی بھتہ خوری کا نوٹس لیا جائے اور متاثرہ شہریوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔

Related Posts