ایک جانب ملک بھر میں مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے تو دوسری جانب سرکاری ادارے بھی مافیا بن کر غریبوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے لگے ہیں، سوئی سدرن گیس کمپنی پر حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے بھتہ خوری کے اسکینڈل نے شہریوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
صارفین کی شکایات اور میڈیا رپورٹس سے انکشاف ہوا ہے کہ گیس کمپنی نے معمولی یونٹس پر ہزاروں روپے کے بل بھیج کر شہریوں کی کمر توڑ دی ہے۔
ایک شہری نے سوشل میڈیا پر انکشاف کیا ہے کہ 90 یونٹس کے استعمال پر 1500 روپے جبکہ 99 یونٹس کے معمولی فرق پر 5220 روپے کا ناقابلِ فہم بل جاری کیا گیا۔

حیرت انگیز طور پر صرف 9 یونٹس کے فرق سے بل میں تقریباً 3اعشاریہ 5 گنا اضافہ کر دیا گیا، جو نہ صرف غیر منطقی بلکہ صریحاً ظالمانہ اقدام ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کے بعد اب پیش خدمت ہے سوئی گیس مافیا، جو بھتہ خوری کا نیا چہرہ بن کر سامنے آئی ہے۔
نیو کراچی سیکٹر فائیو ای کے رہائشی صارف نے شکایت کی ہے کہ چھ ماہ سے علاقے میں گیس نہیں آ رہی جبکہ بلز باقاعدگی سے موصول ہو رہے ہیں۔

شکایت کنندہ نے سوال اٹھایا ہے کہ بیوہ خواتین سلنڈر پر ہزاروں روپے خرچ کریں یا بچوں کو روٹی کھلائیں؟ صارف کا کنزیومر نمبر 8318729268 بھی فراہم کیا گیا ہے تاکہ اس زیادتی کے خلاف کارروائی ہو۔
ایک اور صارف نے اپنے گیس بل میں موجود غیر واضح چارجز کی نشاندہی کی ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ پی یو جی چارجز کی طرح ایک اور نیا حربہ ہے جس کے ذریعے عام صارف کو نچوڑا جا رہا ہے۔ شکایت کنندگان رہنمائی چاہتے ہیں کہ کیا ان چارجز کو قانونی طور پر ہٹوانا ممکن ہے یا یہ بھی ایک اور مستقل لوٹ مار ہے؟

ایم ایم نیوز کی تفصیلی رپورٹس کے مطابق ایس ایس جی سی کے اندر ایک منظم کرپشن نیٹ ورک کام کر رہا ہے جو نہ صرف گیس کی چوری میں ملوث ہے بلکہ جعلی چارجز، جعلی میٹر ریڈنگ، اور فرضی بلنگ جیسے اقدامات سے اربوں روپے ہڑپ کر چکا ہے۔
گیس ملے نہ ملے بل تو دینا ہوگا! گیس کمپنی نے بھی کراچی کے شہریوں سے بھتہ خوری شروع کردی
ایس ایس جی سی کا نیا اسکینڈل منظرِ عام پر آنے کے بعد عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
متاثرہ صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ ایس ایس جی سی کی تمام بلنگ پالیسیوں اور چارجز کی اعلیٰ سطح پر شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور بلوں پر لگائے گئے تمام اضافی اور غیر قانونی چارجز کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔
گیس چوری میں ایس ایس جی سی کا عملہ و افسران شریک جرم، عوام کی سزا اوور بلنگ
شہریوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، چیئرمین نیب، ایف آئی اے، محتسب اعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایس ایس جی سی کی بھتہ خوری کا نوٹس لیا جائے اور متاثرہ شہریوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








