خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں ہفتہ کی شب گمبیلا پولیس اسٹیشن پر دہشت گردوں کے ممکنہ حملے کو پولیس نے بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا۔
تھرمل کیمروں کی مدد سے مشتبہ نقل و حرکت کی شناخت کے بعد پولیس اہلکاروں نے فوری فائرنگ کی جس کے باعث حملہ آور فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔ خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
پولیس ذرائع کے مطابق تھرمل نگرانی کے دوران پولیس نے تھانے کے قریب مشکوک حرکات کو محسوس کیا اور فوری طور پر فائرنگ کر کے حملہ آوروں کو پوزیشن سنبھالنے سے پہلے ہی منتشر کر دیا۔ حملے میں پولیس کا کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔
انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حامد اور ریجنل پولیس آفیسر بنوں نے لکی مروت پولیس کی مستعدی، جرات اور بروقت کارروائی کو سراہا جس نے ایک ممکنہ بڑے حملے کو روک دیا۔
پولیس ترجمان کے مطابق حملے کے بعد قریبی علاقوں میں تفتیش اور سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے تاکہ مفرور دہشت گردوں اور ان کے ممکنہ ٹھکانوں کا پتہ لگایا جا سکے۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب ملک بھر میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
گزشتہ روز بلوچستان کے پہاڑی علاقے سے اغوا شدہ 9 مزدوروں کی لاشیں برآمد ہوئیں جو دو بسوں میں سفر کر رہے تھے۔ انہیں جمعرات کی شام اغوا کیا گیا تھا اور بعد ازاں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے ان ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ افراد پاکستانی خفیہ اداروں کے لیے جاسوسی کر رہے تھے۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کے مطابق اسی روز سیکورٹی فورسز نے تین دیگر حملے بھی ناکام بنائے اور بھارت پر ان دہشت گرد کارروائیوں کی پشت پناہی کا الزام عائد کیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








