سگریٹ بیچنے والے ہو جائیں ہوشیار؛ سعودی عرب میں قانون مزید سخت ہوگیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

سعودی حکام نے عوامی صحت کے تحفظ کے پیش نظر ایک اہم اقدام اٹھاتے ہوئے کریانہ اسٹورز (بقالہ) اور کینٹینز میں تمباکو مصنوعات کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

سعودی نیوز ویب سائٹ “سبق” کے مطابق، وزارتِ بلدیات نے تمباکو مصنوعات سے متعلق سخت اور جامع ضوابط جاری کیے ہیں جو نہ صرف فروخت کے عمل کو منظم کرتے ہیں بلکہ تمباکو نوشی کے خلاف جاری مہم کو مزید موثر بنانے کی کوشش کا حصہ ہیں۔

نئے قوانین کے بعد اب صرف مخصوص، لائسنس یافتہ مراکز ہی سگریٹ یا دیگر تمباکو مصنوعات فروخت کر سکیں گے۔اس فیصلے کا مقصد مملکت میں بڑھتی ہوئی سگریٹ نوشی، خصوصاً نوجوانوں اور خواتین میں، کی شرح کو کم کرنا ہے۔

ضوابط کےک تحت تمباکو مصنوعات کو عام صارفین کی نظروں سے دور رکھا جائے، یہ اشیاء مکمل طور پر بند درازوں (کیبنٹس) میں رکھنا لازم ہوگا تاکہ یہ خریداری کے وقت دکھائی نہ دیں جبکہ 18 سال سے کم عمر یا قانون میں متعین عمر سے کم افراد کو تمباکو مصنوعات کی فروخت غیر قانونی قرار دی گئی ہے اور خریدار سے شناخت طلب کرنے کا اختیار بھی دکاندار کو حاصل ہوگا۔

سعودی حکام نے کہا کہ دکانوں میں واضح تنبیہی بورڈز آویزاں کیے جائیں گے جن میں تمباکو نوشی کے نقصانات کی تصویری نمائندگی (جیسے پھیپھڑوں، دل اور شریانوں پر اثرات) شامل ہوگی۔

وزارت نے زور دیا ہے کہ قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔ “تمباکو نوشی منع ہے” کے نمایاں سائن بورڈز ہر متعلقہ مقام پر نصب کیے جائیں گے تاکہ شہریوں میں شعور پیدا ہو اور صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔

Related Posts