راولپنڈی میں پولیس نے ایک ایسے جوڑے کو گرفتار کیا ہے جو ’ہنی ٹریپ‘ کے ذریعے شہریوں کو اپنے جال میں پھنسا کر ویڈیوز بناتا اور پھر انہیں بلیک میل کرکے بھاری رقوم بٹورتا تھا۔
تفصیلات کے مطابق اس گروہ کے خلاف ایک سرکاری ملازم نے تھانے میں شکایت درج کروائی، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کرلیا۔ ایف آئی آر میں پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کی دفعہ 21 بھی شامل کی گئی ہے جو کہ نازیبا مواد پھیلانے سے متعلق ہے۔
متاثرہ شہری نے اپنے ابتدائی بیان میں پولیس کو بتایا کہ ملزمہ نے اسے اپنے گھر بلایا، جہاں اس کی ویڈیو بنائی گئی۔ بعد ازاں ملزمان نے اسے 2 لاکھ روپے کے بدلے ویڈیو حذف کرنے کا جھانسہ دے کر رقم وصول کی، لیکن کچھ روز بعد مزید رقم کا مطالبہ کیا گیا۔ انکار پر، ویڈیوز متاثرہ کے دوستوں کو بھیج دی گئیں۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے ان دوستوں سے بھی مجموعی طور پر 4 لاکھ 10 ہزار روپے ہتھیائے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس جوڑے نے اب تک کئی شہریوں کو اسی طریقے سے نشانہ بنایا ہے۔ ملزمان نہ صرف ویڈیو بناتے بلکہ انہیں سوشل میڈیا یا دیگر پلیٹ فارمز پر لیک کرنے کی دھمکیاں دے کر رقم بٹورتے۔
ہنی ٹریپ کی وارداتوں میں عموماً ایک عورت اجنبی مرد سے فون پر رابطہ کرتی ہے اور تعلقات بنانے کے بہانے ملاقات کے لیے بلاتی ہے۔ ملاقات کے دوران ویڈیوز یا تصاویر ریکارڈ کرلی جاتی ہیں، جس کے بعد بلیک میلنگ کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ بعض کیسز میں متاثرہ افراد کو اغوا یا تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔
راولپنڈی پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ نامعلوم افراد سے ملنے یا ان کی کالز کا جواب دینے سے گریز کریں۔ اگر کوئی مشتبہ شخص رابطہ کرے یا کسی ہنی ٹریپ جیسی صورت حال کا سامنا ہو، تو فوری طور پر قریبی تھانے یا ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے اور متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ شہریوں کو محتاط رہنے اور سوشل میڈیا یا دیگر ذرائع پر کسی قسم کی ذاتی معلومات یا تصاویر شیئر نہ کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








