کراچی کے علاقے بغدادی میں ایک دل دہلا دینے والے واقعے نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا جہاں شوہر کے بہیمانہ تشدد کا شکار بیس سالہ نوبیاہتا دلہن شانتی دوران علاج دم توڑ گئی۔
شادی کے صرف دو دن بعد شانتی پر اس کے شوہر اشوک نے شدید جسمانی اور جنسی تشدد کیا، جس کے نتیجے میں وہ کوما میں چلی گئی تھی۔
متاثرہ لڑکی کو 30 جون کو کراچی کے ایک نجی اسپتال میں لایا گیا بعد ازاں حالت بگڑنے پر سول اسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کر دیا گیا، جہاں اس کا کئی روز تک علاج جاری رہا، مگر وہ جانبر نہ ہو سکی۔
ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں واضح طور پر جنسی تشدد اور جسم کے حساس اعضا پر درندگی کی تصدیق ہوئی۔
شانتی کے بھائی کی جانب سے 5 جولائی کو ایف آئی آر درج کروائی گئی جس میں الزام عائد کیا گیا کہ 17 جون کو اشوک نے نشے کی حالت میں اس کے ساتھ غیر فطری جنسی عمل کیا اور مبینہ طور پر اس کے جسم میں آہنی پائپ داخل کر دیا جس سے شانتی کی طبیعت مزید بگڑ گئی۔
شانتی کی ماں نے بھی تصدیق کی کہ اس کی بیٹی کے جسم کو دانتوں سے کاٹا گیا تھا اور وہ مسلسل چیخ و پکار کے باوجود کسی مدد کو پکارتی رہی۔
پولیس نے ملزم اشوک کو گرفتار کر کے اس کے خلاف قتل، جنسی زیادتی اور غیر انسانی تشدد کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ میڈیکو لیگل رپورٹ مکمل کر لی گئی ہے۔
اس دلخراش واقعے کے بعد انسانی حقوق کے کارکنوں، خواتین کی تنظیموں ور سماجی حلقوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو فوری اور سخت سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی خاتون کے ساتھ ایسی درندگی نہ ہو۔
ساتھ ہی یہ بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ گھریلو تشدد کے خلاف موجود قوانین پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے، پولیس اور عدلیہ کو صنفی تشدد سے نمٹنے کی تربیت دی جائے، اور پناہ گزین خواتین کے لیے محفوظ شیلٹر ہومز قائم کیے جائیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








