بلوچستان میں مقامی جرگے کے حکم پر ایک جوڑے کے قتل کے واقعے کے بعد اب پنجاب کے شہر شیخوپورہ میں ایک افسوسناک منظر سامنے آیا ہے جہاں ایک نوجوان لڑکی کو صرف اس لیے سرِعام بدسلوکی اور مارپیٹ کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ اس نے اپنی پسند سے نکاح کیا تھا۔
یہ واقعہ شیخوپورہ کی کچہری میں پیش آیا جہاں قانون کی عملداری کے بجائے طاقتور عناصر نے اپنی سوچ اور روایت کو قانون پر فوقیت دی۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں متاثرہ لڑکی کو اپنی مرضی سے نکاح کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
اس وقت وہ مکمل ہوش و حواس میں تھی اور اس کے چہرے پر کسی بھی دباؤ یا جبر کے آثار نہیں تھے تاہم تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اسی لڑکی پر اب زبردستی دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ عدالت میں اپنے نکاح سے انکار کرے اور اپنے شوہر کے خلاف بیان دے۔
یہ واقعہ محض ایک فرد یا جوڑے کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا معاشرتی المیہ ہے۔ اگر کچہری جیسے محفوظ اور قانونی مقامات پر لڑکیوں کو اس طرح بےعزتی، تشدد اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو باقی معاشرہ کس حد تک محفوظ تصور کیا جا سکتا ہے؟ یہ سوال ریاستی اداروں، عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے تمام حلقوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
چند روز قبل بلوچستان میں پیش آنے والے واقعے میں ایک جرگے کے حکم پر دو افراد کو قتل کر دیا گیا تھا اور اب شیخوپورہ کا یہ منظر بھی اسی تسلسل کا حصہ لگتا ہے جہاں عورت کی پسند کو معاشرتی گناہ سمجھا جا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








