سوات میں مدرسے میں بچے کا قتل، دو مرکزی ملزمان گرفتار، دو کی تلاش جاری

تازہ ترین

تازہ ترین

student farhan tortured to death by madrasa teacher in swat video goes viral
ONLINE

ڈی پی او سوات محمد عمر کا کہنا ہے کہ دینی دینی مدرسہ مخزن العلوم میں تشدد کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے 11 سالہ بچے فرحان ایاز کے قتل میں ملوث دو مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ مزید دو کی تلاش جاری ہے۔

واقعے کے بعد مدرسے میں زیر تعلیم 170 بچوں کو والدین کے حوالے کر دیا گیا ہے اور مدرسہ سیل کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مدرسے کے انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے 9 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

واقعے کی تفصیلات ایک کمسن عینی شاہد بچے نے پشتو زبان میں بتائیں، جس کا اردو ترجمہ دل دہلا دینے والا ہے۔ بچے کے بقول مدرسے کے مہتمم نے چائے پینے کے بعد اچانک فرحان کو شدید تشدد کا نشانہ بنانا شروع کیا۔ جب وہ تھک گیا تو قاری بخت امین کو بلایا جس نے بچے کو مزید وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

نماز کے وقت جب بچے وہاں سے چلے گئے اور واپس آئے تو مہتمم دوبارہ آیا اور فٹبال کی طرح دوڑتا ہوا آ کر فرحان کو زور دار لاتیں ماریں، یہاں تک کہ اس کی پسلیوں میں چوٹ لگی اور وہ نڈھال ہو گیا۔ مغرب کے قریب بھی مہتمم نے فرحان پر لات چلائی اور کہاکہ اٹھ تُو بہانے کرتا ہے لیکن اس کے بعد وہ بچہ کبھی نہ اٹھا۔

واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں یہ ننھا چشم دید گواہ اپنے بیان کے دوران خود بھی زاروقطار رونے لگا جس سے اس سانحے کی سنگینی اور درندگی کا اندازہ ہوتا ہے۔

فرحان کے نانا بخت مومند نے میڈیا کو بتایا کہ مقتول بچہ کچھ دن قبل اپنی پھوپھی کی شادی کے موقع پر گاؤں آیا تو اس نے گھر والوں کو بتایا کہ مدرسے میں اس سے غلط کام کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جس کی تفصیل وہ شرم کے مارے سب کے سامنے نہیں دے سکا۔

 

فرحان نے کہاکہ مجھے مدرسے نہ بھیجیں، میں یہاں دس بھینسیں سنبھال لوں گا مگر دوبارہ وہاں نہیں جانا چاہتا۔مقتول کے چچا نے دوبارہ زبردستی راضی کیا اور مدرسے والوں سے کہا کہ بچے پر تشدد نہ کیا جائے، ہم اضافی فیس بھی دیں گے لیکن مدرسے والوں نے یقین دہانی کے باوجود نہ صرف فرحان کی شکایت کو سنجیدگی سے نہیں لیا بلکہ اسے زندہ واپس بھیجنے کے قابل بھی نہ چھوڑا۔

فرحان کے والد محمد ایاز جو سعودی عرب میں محنت مزدوری کر رہے تھے، بیٹے کی خبر سن کر فوراً وطن واپس پہنچے۔ والد، چچا اور دادا کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ بچہ مدرسے سے متعلق متعدد بار شکایات کرتا رہا مگر کسی نے اس کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

یہ واقعہ ایک بار پھر ہمارے دینی اداروں میں بچوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک، جنسی استحصال اور تشدد کے کلچر پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔

Related Posts