ڈی پی او سوات محمد عمر کا کہنا ہے کہ دینی دینی مدرسہ مخزن العلوم میں تشدد کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے 11 سالہ بچے فرحان ایاز کے قتل میں ملوث دو مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ مزید دو کی تلاش جاری ہے۔
واقعے کے بعد مدرسے میں زیر تعلیم 170 بچوں کو والدین کے حوالے کر دیا گیا ہے اور مدرسہ سیل کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مدرسے کے انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے 9 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
سوات کے مدرسہ مخزن العلوم لے مدرسہ کے مہتمم اور قاری کے ہاتھوں تشدد کے بعد جاں بحق ہونے والے بچے فرحان ایاز کے بارے میں عینی شاہد بچے کی گفتگو
اس بچے کے کلاس فیلو نے انٹرویو دیا پشتو میں اور اس پشتو ویڈیو کا اردو ترجمہ یہ ہے
مہتم صاحب نے چائے پی، اس کے بعد اٹھا اس بچے کو… pic.twitter.com/HAy8GhFZMC
— Sabookh Syed | Journalist (@SaboohSyed) July 23, 2025
واقعے کی تفصیلات ایک کمسن عینی شاہد بچے نے پشتو زبان میں بتائیں، جس کا اردو ترجمہ دل دہلا دینے والا ہے۔ بچے کے بقول مدرسے کے مہتمم نے چائے پینے کے بعد اچانک فرحان کو شدید تشدد کا نشانہ بنانا شروع کیا۔ جب وہ تھک گیا تو قاری بخت امین کو بلایا جس نے بچے کو مزید وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔
نماز کے وقت جب بچے وہاں سے چلے گئے اور واپس آئے تو مہتمم دوبارہ آیا اور فٹبال کی طرح دوڑتا ہوا آ کر فرحان کو زور دار لاتیں ماریں، یہاں تک کہ اس کی پسلیوں میں چوٹ لگی اور وہ نڈھال ہو گیا۔ مغرب کے قریب بھی مہتمم نے فرحان پر لات چلائی اور کہاکہ اٹھ تُو بہانے کرتا ہے لیکن اس کے بعد وہ بچہ کبھی نہ اٹھا۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں یہ ننھا چشم دید گواہ اپنے بیان کے دوران خود بھی زاروقطار رونے لگا جس سے اس سانحے کی سنگینی اور درندگی کا اندازہ ہوتا ہے۔
فرحان کے نانا بخت مومند نے میڈیا کو بتایا کہ مقتول بچہ کچھ دن قبل اپنی پھوپھی کی شادی کے موقع پر گاؤں آیا تو اس نے گھر والوں کو بتایا کہ مدرسے میں اس سے غلط کام کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جس کی تفصیل وہ شرم کے مارے سب کے سامنے نہیں دے سکا۔
سوات کے مدرسے میں تشدد سے قتل کیے گئے بچے کے نانا بخت مومند بتا رہے ہیں کہ بچہ جب گزشتہ دنوں اپنی پھوپھی کی شادی پر گاؤں آیا تھا تو گھر والوں کو بتایا کہ وہاں مدرسے میں مجھے غلط کام کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ (وہ میں یہاں میڈیا والوں کے سامنے نہیں بتا سکتا)۔
بچے نے گھر والوں سے کہا… pic.twitter.com/8NwzmlQsEH— A.Waheed Murad (@awaheedmurad) July 23, 2025
فرحان نے کہاکہ مجھے مدرسے نہ بھیجیں، میں یہاں دس بھینسیں سنبھال لوں گا مگر دوبارہ وہاں نہیں جانا چاہتا۔مقتول کے چچا نے دوبارہ زبردستی راضی کیا اور مدرسے والوں سے کہا کہ بچے پر تشدد نہ کیا جائے، ہم اضافی فیس بھی دیں گے لیکن مدرسے والوں نے یقین دہانی کے باوجود نہ صرف فرحان کی شکایت کو سنجیدگی سے نہیں لیا بلکہ اسے زندہ واپس بھیجنے کے قابل بھی نہ چھوڑا۔
سوات مدرسے میں قتل ہونے والے مقتول فرحان کا والد محمد ایاز سعودی عرب سے بچے کی خبر سن کر واپس وطن پہنچ گیا ہے۔۔
والد،چچا،دادا کی باتوں سے اندازہ ہوا ہے کہ بچہ مدرسے کے حوالے سے اپنے گھر والوں کو مختلف شکایات بتا رہا تھا لیکن کسی نے اس کی بات کو نہیں سمجھا۔
کاش اپنے بچوں کی باتیں… pic.twitter.com/2gPVGjI7aX— Asad R Chaudhry (@Asadrchaudhry) July 23, 2025
فرحان کے والد محمد ایاز جو سعودی عرب میں محنت مزدوری کر رہے تھے، بیٹے کی خبر سن کر فوراً وطن واپس پہنچے۔ والد، چچا اور دادا کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ بچہ مدرسے سے متعلق متعدد بار شکایات کرتا رہا مگر کسی نے اس کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔
یہ واقعہ ایک بار پھر ہمارے دینی اداروں میں بچوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک، جنسی استحصال اور تشدد کے کلچر پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








