بھارت کے علاقے جے پور سے ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک 42 سالہ شخص کی شادی کے خواب صرف 13 دن میں چکنا چور ہوگئے۔
جے پور کے علاقے کوٹکھاودا میں ایک 42 سالہ شخص شادی کے نام پر بڑے دھوکے کا شکار ہوگیا۔ متاثرہ شخص نے پولیس کو بتایا کہ ایک رام جی لال نامی شخص نے اس کی ملاقات ایک لڑکی پریتی سے کروائی جو دہلی کے ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتی تھی۔
دونوں کی شادی 5 جولائی 2025 کو انجام پائی جس کے لیے دولہا نے مبینہ طور پر 3 لاکھ 60 ہزار روپے ادا کیے۔
شادی کے صرف 13 دن بعد یعنی 18 جولائی کو دلہن کے نام نہاد والدین دو مردوں اور ایک عورت کے ساتھ گھر پہنچے اور خود کو کسی این جی او کا نمائندہ ظاہر کیا۔
ان لوگوں نے شور شرابہ کیا، گھر کا ماحول خراب کیا اور 63 ہزار روپے نقد اور قیمتی سونے کے زیورات لے کر وہاں سے فرار ہوگئے۔
بعد ازاں دلہن نے شوہر کو فون کر کے مزید رقم کا مطالبہ کیا اور دھمکی دی کہ اگر پیسے نہ دیے گئے تو وہ اس کے خلاف جھوٹی شکایت درج کرا دے گی۔
اس تمام صورتحال سے پریشان ہو کر متاثرہ شخص کو احساس ہوا کہ وہ ایک بڑی سازش کا شکار ہو چکا ہے، چنانچہ اس نے 13 دن بعد ہی پولیس میں باقاعدہ ایف آئی آر درج کروائی۔
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دلہن، رام جی لال اور دیگر افراد کی تصاویر حاصل کر لیں اور تفتیش شروع کر دی ہے۔
پولیس کے مطابق یہ محض ایک انفرادی واقعہ نہیں بلکہ ممکنہ طور پر ایک منظم گینگ کی کارروائی ہے، جو مردوں کو شادی کے جال میں پھنسا کر ان سے بھاری رقم اور زیورات ہتھیا لیتے ہیں اور پھر فرار ہو جاتے ہیں۔
حکام نے معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے تاکہ ایسے دیگر متاثرین اور ملوث گروہ کو بے نقاب کیا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








