اسلامی دنیا کا پہلا مکمل ماحول دوست شہر، جہاں گرمیوں میں اے سی کی ضرورت نہ سردیوں میں ہیٹر کی

تازہ ترین

تازہ ترین

الجزائر کا ماحول دوست شہر تافیلات کا ایک منظر
فوٹو غیرملکی میڈیا

ایک اسلامی ملک میں ایسا مکمل ماحول دوست شہر بنایا گیا ہے جس میں گرمیوں میں ایئر کنڈیشنر کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ ہی سخت جاڑے میں ہیٹر استعمال کرنے کی۔

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق یہ شمالی افریقہ کے مسلم ملک الجزائر کا شہر تافیلات ہے اور یہ ایک مکمل ماحول دوست شہر ہے۔ گزشتہ جنوری میں اس نے اقوام متحدہ کی تنظیم کے ساتھ شراکت میں بین الاقوامی ہاؤسنگ ایوارڈ جیتا اور سبز تعمیرات کا ایک ماڈل بن گیا ہے۔

“العربیہ کے مطابق الجزائر کے دارالحکومت سے 610 کلومیٹر جنوب کے صوبہ غردایہ میں واقع قصر تافیلالت نامی شہر “امیدول” فاؤنڈیشن نے بنی یزقن میں بنایا ہے۔ اس کے بانی ڈاکٹر احمد نوح نے 2021 میں “نیشنل انرجی گلوب” ایوارڈ حاصل کیا جو آسٹریا کی “انرجی گلوب” فاؤنڈیشن ہر سال دیتی ہے۔ اس سے قبل یہ منصوبہ 2015 میں ماحولیاتی انتظام کے لیے پہلا عرب ایوارڈ جیت چکا ہے۔ یہ شہر کئی مرتبہ الجزائر میں بہترین فن تعمیر کا ایوارڈ بھی حاصل کر چکا ہے۔

جیسے ہی آپ شہر میں داخل ہوتے ہیں آپ کو پتھر اور مٹی سے بنے گھر نظر آتے ہیں جن کی سمت، اونچائی اور حتیٰ کہ ایک رہائش گاہ کے اندر گھروں کی تقسیم بھی احتیاط سے کی گئی ہے۔ اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ اس سے ملحقہ چڑیا گھر نے کیا ہے جو اپنی محدود جگہ کے باوجود جانوروں کی بہت سی اقسام پر مشتمل ہے۔

” اس شہر کے اندر  1050 رہائش گاہیں بنائی گئی ہیں جن میں تقریباً 5 ہزار 500 باشندے رہتے ہیں۔ ان میں سے ایک صاحب محمد بھی تھے جنہوں نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ کو اپنے گھر کا دورہ کرنے کی اجازت دی۔ یہ گھر باقی گھروں کی طرح روایتی تکنیکوں سے بنایا گیا تھا جو حرارت اور آواز کو الگ کرنے کے قابل بناتے ہیں۔

گھر میں ایک تہہ خانہ، ایک پہلی منزل اور ایک چھت ہے اور ان کے درمیان ایک سوراخ چھوڑا گیا ہے تاکہ ہوا کا ایک بہاؤ گزر سکے جو کسی بھی ٹھنڈک کے آلے کا متبادل ہو۔ محمد نے بتایا کہ اس قسم کے گھروں میں رہنا جدید گھروں سے بہت مختلف ہے۔ ہمیں ایئر کنڈیشنرز یا ہیٹر کی ضرورت نہیں ہوتی۔

مثال کے طور پر جب گھر کے باہر کا درجہ حرارت 35 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے تو گھر کے اندر 25 ڈگری سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔ یہاں کے باشندے اضافی ٹھنڈک سے بے نیاز ہیں لیکن کچھ لوگ اپنے گھر کو ایئر کنڈیشنر سے لیس کر سکتے ہیں تاکہ اسے ریکارڈ درجہ حرارت تک پہنچنے یا بڑی تعداد میں مہمانوں کو وصول کرنے پر استعمال کر سکیں۔ نیز گھروں کے درمیان وینٹیلیشن کے سوراخ ہمیں خاص طور پر گرمیوں میں ایک تازگی بخش ماحول حاصل کرنے کے قابل بناتے ہیں۔

دوسری جانب صالح، جو غردایہ اور الجزائر کے درمیان باقاعدگی سے سفر کرتے ہیں، نے کہا کہ ساحلی اور صحرائی ریاستوں کے موسم میں بہت فرق ہے۔ اگرچہ مؤخر الذکر میں درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے لیکن نمی کی کمی اسے رہنے کے لیے بہترین جگہ بناتی ہے۔

منصوبے کے مالک اور “امیدول” ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر احمد نوح نے بتایا کہ تعمیر کے آغاز میں ہم نے ماحولیاتی پہلو کو ترجیح نہیں دی تھی بلکہ ہم نے اقتصادی پہلو پر غور کیا تھا۔ اس لحاظ سے کہ ہم نے قدرتی مواد استعمال کیا تھا جیسے پتھر، جپسم اور تمشمت (مقامی جپسم جو سفید مائل بہ خاکستری رنگ کا ہوتا ہے، اسے سطح سے یا ایک میٹر کی گہرائی سے نکالا جاتا ہے ) جو اپنی کم لاگت کے علاوہ، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ آواز اور حرارت کے لیے موصلیت کا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیوار کی موٹائی 45 سینٹی میٹر ہے جو گرمیوں میں حرارت جذب کرتی ہے اور سردیوں میں نمی جذب کرتی ہے۔ اس سے گھر کے اندر اور باہر کے درجہ حرارت میں فرق 9 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔

صفائی کے پہلو کے بارے میں بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ کہ شہر کے باشندے ہی اس کی صفائی میں حصہ لیتے ہیں جس کی وجہ سے مکانات کی تعداد ہزار تک محدود ہے کیونکہ چھوٹے شہر کا انتظام کرنا آسان ہے۔

Related Posts