جرمن شہر نیورمبرگ کے ایک چڑیا گھر میں منگل کے روز ایک دل دہلا دینے والا فیصلہ عمل میں آیا جہاں 12 ببون بندروں کو ہلاک کر دیا گیا۔ اس فیصلے کی وجہ چڑیا گھر کی جانب سے جگہ کی کمی اور بڑھتی ہوئی ببون آبادی کو سنبھالنے میں ناکامی بتائی گئی۔
نیورمبرگ کے ٹیئرگارٹن چڑیا گھر نے رواں سال فروری میں اعلان کیا تھا کہ وہ ان ببونز کو ہلاک کرنے پر مجبور ہے جن کے لیے مناسب جگہ نہیں۔اس اقدام نے نہ صرف جانوروں کے حقوق کے کارکنوں بلکہ عام شہریوں کے دلوں میں بھی غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔
چڑیا گھر حکام کے مطابق انہوں نے دیگر چڑیا گھروں میں ببونز کی منتقلی کی کوشش کی مگر کوئی مناسب انتظام نہ ہو سکا۔ اس اعلان کے بعد سے ہی جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہوں نے شدید احتجاج کیا اور چڑیا گھر کے باہر مظاہرے بھی کیے۔
منگل کی صبح چڑیا گھر نے آپریشنل وجوہات کی بنا پر ایک دن کے لیے بندش کا اعلان کیا۔ دوپہر ہوتے ہوتے پولیس نے بتایا کہ کئی مظاہرین نے چڑیا گھر میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی اور زمین سے چپک کر احتجاج کیا، جنہیں بعد میں حراست میں لے لیا گیا۔
اسی دوران چڑیا گھر نے اعلان کیا کہ 12 ببون بندروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہ آ سکیں مگر جانوروں کے حقوق کے گروہوں نے اسے ظالمانہ قرار دیتے ہوئے فوجداری شکایت درج کرانے کا عزم ظاہر کیا۔
چڑیا گھر میں گنی ببونز کی تعداد 43 تک پہنچ گئی تھی جبکہ ان کا رہائشی حصہ، جو 2000 کی دہائی کے آخر میں بنایا گیا تھا، صرف 25 جانوروں اور ان کے بچوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، اس گنجائش سے زائد تعداد نے ببونز میں جھگڑوں اور تناؤ کو جنم دیا۔
چڑیا گھر کا کہنا ہے کہ اس نے ماضی میں اس مسئلے کے حل کے لیے کئی اقدامات کیے جن میں 2011 سے اب تک پیرس اور چین کے چڑیا گھروں کو 16 ببونز کی منتقلی شامل ہے تاہم اب وہ چڑیا گھر بھی اپنی گنجائش کی حد کو چھو چکے ہیں۔ مانع حمل کے طریقوں کا تجربہ بھی کیا گیا، مگر وہ ناکام رہا۔
یاد رہے کہ یورپ کے چڑیا گھروں میں جانوروں کو ہلاک کرنے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ ماضی میں بھی ایسے فیصلوں نے شدید تنقید کو جنم دیا جیسے کہ 2014 میں کوپن ہیگن چڑیا گھر میں ایک صحت مند دو سالہ زرافے کو ہلاک کر کے اس کی باقیات کو بچوں کے سامنے کاٹ کر شیروں کو کھلایا گیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








