ٹک ٹاکر اور یوٹیوبر رجب بٹ اور ان کے انتہائی قریبی دوستوں حیدر شاہ، مان ڈوگر اور شہزی کو مبینہ نازیبا ویڈیوز لیک ہونے کے بعد عوامی تنقید کا سامنا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردعمل دیتے ہوئے سوال کیا ہے کہ اگر یہ لوگ مذہبی اور اخلاقی اقدار پر مبنی مواد پیش کرتے ہیں تو پھر برہنہ ویڈیوز کیسے بنائی گئیں؟ کئی صارفین نے یہ دلیل بھی پیش کی کہ اگر ویڈیوز ان کی ہی موبائل سے لیک ہوئی ہیںتو بننے کا مقصد کیا تھا؟
ایک صارف نے لکھا کہ اگر ویڈیوز بنائی ہی گئیں، تو پھر موبائل ہیک ہونے کی کہانی کیسے قابلِ قبول ہے؟
اسی طرح ایک صارف نے ٹویٹ کیا کہ رجب بٹ کے بہت قریبی دوستوں کی ویڈیو کال پر برہنہ تصاویر میں جو لڑکا نظر آیا وہ کوئی اور نہیں بلکہ خود رجب بٹ تھا۔
Rajab butt or us k Dotson ki video kiss ko chaheye pic.twitter.com/gX7UDxDAzb
— mr khan (@imrannazeerkha1) July 28, 2025
دوسری جانب رجب بٹ اور ان کے دوستوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے موبائل فون کسی نے ہیک کر کے ان کی نجی ویڈیوز چوری کی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ہماری ویڈیوز بغیر اجازت لیک کی گئی ہیں، ہمارا ڈیٹا غلط ہاتھوں میں گیا تھا۔
رجب بٹ کے مداحوں کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایسی قابل اعتراض ویڈیوز صرف نجی مقاصد کے لیے بنائی گئی تھیں یا پھر کسی خاص مقصد کے تحت ریکارڈ کی گئیں؟ اور اگر بنائی بھی گئیں، تو انہیں لیک کیوں کیا گیا؟
ایک صارف نے لکھا کہ ان لڑکوں نے ویڈیوز بنائی بھی ہیں تو پھر ٹال مٹول کیوں؟ کیا بات چھپانے کی ہے؟
ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ اگر واقعی ویڈیوز ہیک ہوئی ہی ہیں، تو پھر رجب بٹ اور ان کے دوستوں کی پہلی خاموشی سوال بنتی ہے۔
رجب بٹ پر پہلے بھی لاہور ہائی کورٹ میں ایک توہین مذہب کا کیس درج کیا گیا ہے، اور اب موجودہ تنازع نے ان کی شہرت کو ایک بار پھر خطرے میں ڈال دیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








