کارکنوں کیلئے بری خبر! جانتے ہیں عدالت نے علیمہ خان، خدیجہ شاہ، عمر ایوب سمیت 50 پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاری کا حکم کیوں دیدیا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Arrest warrants issued for Aleema Khan, 50 other top PTI leaders
ONLINE

اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 50 سرکردہ رہنماؤں کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

یہ کارروائی کراچی کمپنی تھانے میں درج ایک مقدمے کے تناظر میں عمل میں لائی گئی ہے جس میں عدالت نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے متعدد مرکزی رہنماؤں کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کا حکم دیا۔

انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ان وارنٹس پر دستخط کیے۔ جن رہنماؤں کو اس فیصلے میں شامل کیا گیا ہے۔

ان میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان، سابق وزیر حماد اظہر، شیخ وقاص اکرم، سابق رکن قومی اسمبلی کنول شوزب، شاہد خٹک، شاندانہ گلزار اور جماعت چھوڑنے والے شیر افضل مروت بھی شامل ہیں۔

فہرست میں دیگر نمایاں ناموں میں سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی، مشال یوسفزئی، شبلی فراز، فیصل جاوید، عبدالقیوم نیازی، نادیہ خٹک، عمر تنویر بٹ، آفاق علوی، سلمان اکرم راجہ، روف حسن، مراد سعید، زلفی بخاری، راجہ بشارت، احمد خان نیازی، سردار منصور سلیم، کرنل (ر) شبیر اعوان، صدام ترین اور راشد حفیظ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ خدیجہ شاہ، عالیہ حمزہ، عمیر نیازی، پیر نور الحق قادری، خرم شیر زمان، اسد قیصر، عمر امین گنڈا پور، عاطف خان، شہرام ترکئی، عمر ایوب، زرتاج گل، جنید اکبر، جمشید دستی، اعظم سواتی، حمید رضا، میاں اسلم اقبال، سالار خان کاکڑ، سہیل آفریدی، اجمل صابر، ڈاکٹر نثار جٹ، شعیب شاہین، سید علی بخاری اور عبداللطیف چترالی کے خلاف بھی ناقابلِ ضمانت وارنٹس جاری کیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پی ٹی آئی کے تین اہم اراکینِ پارلیمان سینیٹر اعجاز چوہدری، پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ملک احمد اور احمد چٹھہ کو 9 مئی کے واقعات میں سزا یافتہ ہونے کے بعد نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔ ان کی نشستوں کو بھی خالی قرار دے دیا گیا ہے۔

Related Posts