اسلام آباد: وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں شامل وہ شق واپس لے لی ہے جس کے تحت بیرون ملک سے منگوائی جانے والی اشیاء اور ڈیجیٹل خدمات پر 5 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا تھا۔
اس فیصلے سے نہ صرف عوام کو براہ راست ریلیف ملے گا بلکہ آن لائن خریداری کی لاگت میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے اس ضمن میں باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے ۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ ٹیکس اُن غیر ملکی ڈیجیٹل کمپنیوں پر لاگو تھا جن کے پاکستان میں دفاتر یا نمائندگیاں موجود نہیں تھیں اور جن کے ذریعے پاکستانی شہری مختلف مصنوعات یا سروسز حاصل کرتے تھے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق یہ ٹیکس گزشتہ ماہ وفاقی بجٹ میں نافذ کیا گیا تھا تاہم عوامی حلقوں، کاروباری اداروں اور صارفین کی شدید تنقید کے بعد کابینہ نے اس پر نظر ثانی کی اور بالآخر ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس اقدام سے بیرون ملک سے منگوائی جانے والی اشیاء اور خدمات کی قیمتیں ایک بار پھر پہلے کی طرح سستی ہو جائیں گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے قبل حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں، خاص طور پر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو بھی اعتماد میں لیا تاکہ کسی قسم کی مالی بے ضابطگی پیدا نہ ہو۔
اس اقدام کو ماہرین نے پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کو سہارا دینے اور آن لائن کاروبار کو فروغ دینے کے لیے اہم قدم قرار دیا ہے۔
بہت سے پاکستانی نوجوان، خواتین اور چھوٹے کاروبار آن لائن پلیٹ فارمز سے اشیاء منگوا کر ان کا کاروبار کرتے ہیں یا ذاتی استعمال کے لیے خریداری کرتے ہیں۔
ٹیکس کے نفاذ سے نہ صرف ان کی لاگت میں اضافہ ہوا تھا بلکہ متعدد پلیٹ فارمز نے پاکستان کو سروسز فراہم کرنا محدود کر دی تھیں۔ اب اس ٹیکس کے خاتمے سے بیرون ملک سے منگوائی جانے والی اشیاء دوبارہ سستے داموں دستیاب ہوں گی۔
ایف بی آر کے مطابق یہ ٹیکس ’’ڈیجیٹل موجودگی کی آمدن‘‘ کے زمرے میں آتا تھا اور اسے ان کمپنیوں پر لاگو کیا گیا تھا جن کی پاکستان میں فزیکل موجودگی نہیں تھی لیکن وہ یہاں سے آمدن حاصل کر رہی تھیں۔ اب یہ شق واپس لے لی گئی ہے۔
ماہرین معاشیات کے مطابق یہ فیصلہ عام آدمی کو مہنگائی سے کچھ ریلیف دینے، آن لائن تجارت کو فروغ دینے اور بین الاقوامی کاروباری تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے بروقت اور دانشمندانہ قدم ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








