فیصل آباد: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نو مئی کے کیسز میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، سنی اتحاد کونسل کے رہنما حامد رضا، شبلی فراز، زرتاج گل سمیت 108رہنماؤں و کارکنوں کو 10، 10 سال کی سزاسنادی ہے۔
فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے پُرتشدد واقعات سے متعلق اہم مقدمات میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اعلیٰ قیادت اور کارکنان کے خلاف فیصلہ سنا دیا ہے، جس کے تحت اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، سینیٹر شبلی فراز، سابق وفاقی وزیر زرتاج گل، صاحبزادہ حامد رضا اور شیخ راشد شفیق سمیت 108 افراد کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
عدالت نے ایم پی اے جنید افضل ساہی کو 3 سال قید کی سزا سنائی جبکہ سابق وفاقی وزرا فواد چوہدری، زین قریشی اور رکن پنجاب اسمبلی خیال کاسترو کو مقدمات سے بری کر دیا گیا۔
فیصلے کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت نے تھانہ سول لائن میں حساس ادارے پر حملے کے مقدمہ نمبر 835، پولیس وین کو آگ لگانے کے مقدمہ نمبر 832 اور تھانہ غلام محمد آباد پر حملے کے مقدمہ نمبر 1277 میں ٹرائل مکمل ہونے کے بعد 26 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو اب سنا دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ مذکورہ مقدمات میں پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماؤں کے علاوہ متعدد ارکان اسمبلی بھی نامزد تھے، جن میں علی سرفراز، عمر فاروق، شاہد جاوید، لطیف نذر، اور اسماعیل سیلا شامل ہیں۔
ان افراد پر ریاستی اداروں پر حملے، جلاؤ گھیراؤ، اور پُرتشدد کارروائیوں میں براہ راست ملوث ہونے کے الزامات تھے۔
دوسری جانب سابق وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کے گھر پر حملے سے متعلق مقدمے کا ٹرائل ابھی جاری ہے، جس کا اندراج تھانہ سمن آباد میں کیا گیا تھا، اور اس مقدمے کے گواہان اور ملزمان کے بیانات عدالت میں قلمبند کیے جا رہے ہیں۔
یہ مقدمات 9 مئی 2023 کے ان پُرتشدد واقعات سے متعلق ہیں، جن میں مختلف شہروں میں عوامی املاک، فوجی تنصیبات، اور سیاسی مخالفین کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
عدالت کی جانب سے سنایا گیا یہ فیصلہ نہ صرف پی ٹی آئی کے لیے ایک بڑا قانونی دھچکا ہے بلکہ پاکستان کی سیاسی فضا میں بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








