ایس آئی یو ٹی کا کارنامہ! دماغی طور پر مردہ نوجوان کے گردوں سے دو مریضوں کو نئی زندگی مل گئی

تازہ ترین

تازہ ترین

SIUT team performs successful deceased organ transplant
ONLINE

کراچی کے معروف ادارے سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) نے پاکستان میں اعضاء عطیہ کرنے کی تاریخ میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے جہاں دماغی طور پر مردہ نوجوان کے گردے دو مختلف مریضوں کو کامیابی سے ٹرانسپلانٹ کر دیے گئے۔ یہ انسانی ہمدردی، میڈیکل مہارت، اور معاشرتی شعور کا ایک متاثر کن امتزاج تھا۔

سلطان ظفرنامی 23 سالہ ڈینٹل سرجری کے طالب علم کو ایک سنگین حادثے میں شدید دماغی چوٹ لگنے کے باعث کئی دن آئی سی یو میں زیر علاج رہنے کے بعد دماغی طور پر مردہ قرار دیا گیا۔

اس موقع پر ان کی والدہ ڈاکٹر مہر افروز، جو خود ایس آئی یو ٹی میں نیفرولوجی کی ماہر ڈاکٹر ہیں، نے ایک بے مثال قدم اٹھاتے ہوئے اپنے بیٹے کے گردے عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کی اس جراتمندانہ اور انسان دوست اقدام کو طبی برادری اور سماجی حلقوں میں بے حد سراہا جا رہا ہے۔

ایس آئی یو ٹی کی ماہر ٹیم نے علی الصبح نہایت مہارت سے دونوں مریضوں میں گردے ٹرانسپلانٹ کیے جو کہ گردوں کی بیماری میں مبتلا تھے اور ڈائلیسز کے محتاج تھے۔ ان کے پاس خاندانی عطیہ دہندہ بھی دستیاب نہیں تھا، ایسے میں یہ ٹرانسپلانٹ ان کے لیے نئی زندگی کی نوید بن کر آیا۔

ایس آئی یو ٹی کے ڈائریکٹر پروفیسر ادیب رضوی نے اس موقع پر کہا کہ یہ ایک امید اور انسانیت کا لمحہ ہے۔ انہوں نے معاشرے سے اپیل کی کہ وہ اعضاء عطیہ کرنے کے رجحان کو فروغ دیں تاکہ سیکڑوں زندگیاں بچائی جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دماغی طور پر مردہ افراد کے اعضاء عطیہ کرنا ایک ایسا عمل ہے جو غم کو شفا میں بدل سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ایس آئی یو ٹی پاکستان میں مرنے کے بعد اعضاء عطیہ کرنے والے نظام میں پیش پیش رہا ہے اور 1995 میں پہلا کامیاب متوفی گردہ ٹرانسپلانٹ بھی اسی ادارے میں ہوا تھا۔

اگرچہ ملک میں اعضاء عطیہ کرنے سے متعلق قانونی سہولت موجود ہے تاہم عوام میں اس حوالے سے شعور کی شدید کمی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر سال ہزاروں افراد محض اعضاء کی عدم دستیابی کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

Related Posts