پاکستان کے بلند و بالا پہاڑ کو سر کرنے کی کوشش میں جان کی بازی ہار نے والی جرمن اولمپک چیمپئن لورا ڈالمایر کو جانتے ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

German Olympic Champion Laura Dahlmeier Passes Away in Pakistan Ask ChatGPT
ONLINE

اسلام آباد / اسکردو: پاکستان کے بلند و بالا پہاڑ کو سر کرنے کی کوشش میں جان کی بازی ہار نے والی جرمن اولمپک چیمپئن لورا ڈالمایر ناصرف جرمنی کی مشہور اولمپک گولڈ میڈلسٹ تھیں بلکہ دنیا کی چند عظیم خواتین کوہ پیماؤں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔

ان کی زندگی ہمیشہ سے خطرات کو چیلنج کرنے، بلندیوں کو سر کرنے اور خود کو ثابت کرنے کی علامت رہی ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان کے خوبصورت مگر جان لیوا پہاڑ لیلیٰ پیک کی مہم ان کے لیے زندگی کا آخری سفر بن گئی۔

جرمنی کی 31 سالہ لورا ڈالمایر نے 2018 کے سرمائی اولمپکس میں تاریخ رقم کی جب وہ بیاتھلون کے مقابلے میں اسپرنٹ اور پرسیوٹ دونوں میں طلائی تمغے جیتنے والی پہلی خاتون بنیں۔ وہ اپنی مہارت، محنت، اور نظم و ضبط کے باعث دنیا بھر میں خواتین ایتھلیٹس کے لیے رول ماڈل سمجھی جاتی تھیں۔

لورا کا اصل جذبہ تھا فطرت سے دوستی، بلند پہاڑوں پر چڑھنا اور وہاں اپنی ہمت کو آزمانا۔ اسی جذبے کے تحت وہ جولائی کے آخر میں پاکستان کے شمالی علاقے گانچھے میں واقع لیلیٰ پیک (5700 میٹر بلند) کو سر کرنے پہنچیں۔ ان کے ساتھ ان کی ساتھی جرمن کوہ پیما مارینا ایوا کروس بھی تھیں۔

28 جولائی کو ان کی مہم اس وقت حادثے کا شکار ہوئی جب اچانک چٹانیں گرنے لگیں اور لورا ڈالمایر ان کی زد میں آ کر شدید زخمی ہو گئیں۔ مارینا کو موقع پر ہی ریسکیو کر لیا گیا لیکن لورا لاپتہ ہو گئیں۔ ریسکیو ٹیمیں اور پاکستان آرمی کے ہیلی کاپٹرز فوری طور پر متحرک ہوئے مگر خراب موسم کی وجہ سے ابتدائی کوششیں ناکام رہیں۔

دو روز تک جاری رہنے والے ریسکیو آپریشن کے بعد بالآخر لورا ڈالمایر کی لاش کو بازیاب کر لیا گیا۔ ان کے زخمی جسم نے مزید مزاحمت نہ کی اور وہ زندگی کی آخری سانس لے چکی تھیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس اندوہناک سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ “لورا نہ صرف ایک باصلاحیت ایتھلیٹ تھیں بلکہ ایک بے باک مہم جو بھی تھیں۔ ان کی خدمات اور کارناموں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔” دفتر خارجہ نے ان کے اہل خانہ، مداحوں اور جرمن عوام سے تعزیت بھی کی۔

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی صدر کرسٹی کووینٹری نے لورا کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا جذبہ، کامیابیاں اور شجاعت ہمیشہ خواتین ایتھلیٹس کے لیے ایک مثال رہیں گی۔

یہ واقعہ ایک بار پھر پاکستان میں غیر ملکی کوہ پیماؤں کی حفاظت اور خطرناک موسم میں کوہ پیمائی کی احتیاطی تدابیر پر سوال اٹھا رہا ہے۔قبل ازیں رواں ماہ چیک ریپبلک کی سیاح کلارا کولوچووا بھی نانگا پربت کے قریب کھائی میں گرنے سے جاں بحق ہو گئی تھیں۔

Related Posts