امیتابھ کی اہلیہ نے سندور اجڑنے کا اعتراف کرلیا؛ جیا بچن سے معافی کا مطالبہ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

مانسون اجلاس کے دوران بھارتی پارلیمنٹ میں آپریشن سندور کے موضوع نے سیاسی ماحول کو گرما دیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی سمیت کئی رہنماؤں نے اس اہم معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ تاہم سماجوادی پارٹی کی رہنما اور معروف اداکارہ جیا بچن کے راجیہ سبھا میں دیے گئے بیان نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا۔

جیا بچن نے منگل کے روز راجیہ سبھا میں آپریشن سندور پر بات کرتے ہوئے اس کے نام پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے سب سے پہلے پہلگام حملے میں جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ کسی افسانے جیسا لگتا ہے، جیسے کوئی فلم یا کتاب کی کہانی ہو۔ لوگ آئے، اتنی جانیں لیں، اور پھر سب کچھ خاموش۔ یہ حقیقت کم اور جھوٹ زیادہ لگتا ہے۔

جیا بچن نے مزید کہاکہ میں دل سے بولتی ہوں۔ اس آپریشن کا نام سندور کیوں رکھا گیا؟ سندور تو ان عورتوں کا اُجڑ گیا جن کے شوہر اس حملے میں مارے گئے۔ یہ نام رکھنے والوں نے کیا سوچا؟ ان کے اس بیان نے ایوان میں موجود اراکین اور عوام میں ایک نئی بحث چھیڑ دی۔

جیا بچن کے اس بیان کی بھارتی سوشل میڈیا صافین کی جانب سے شدید تنقید ہو رہی ہے۔ ایک صارف نے ان کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ جیا بچن کا آپریشن سندور کے نام کا مذاق اڑانا اور پہلگام حملے کے شہداءکیلئے بے حسی دکھانا انتہائی شرمناک ہے۔ ایک معزز خاندان سے تعلق رکھنے والی شخصیت سے ایسی توقع نہیں تھی۔

بی جے پی کے رہنما وینوشا ریڈی نے بھی جیا بچن پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہاکہ سماجوادی پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ نے گھٹیا سیاست کے لیے ایک نیا معیار قائم کیا۔ آپریشن سندور کا نام طنز کا نشانہ بنایا جبکہ ہماری فوج شہداء کا بدلہ لے رہی تھی۔ یہ نہ صرف شرمناک ہے بلکہ قومی اتحاد کے خلاف ہے۔

آپریشن سندور کے حوالے سے پارلیمنٹ میں جاری بحث نے سیاسی جماعتوں کے درمیان تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ جہاں ایک طرف حکومتی رہنما اس آپریشن کو دہشت گردی کے خلاف بھارت کی مضبوطی کا ثبوت قرار دے رہے ہیں، وہیں اپوزیشن اس کے نام اور حکمت عملی پر سوالات اٹھا رہی ہے۔ جیا بچن کا بیان اس تنازع کی نئی کڑی بن گیا ہے، جو آنے والے دنوں میں مزید گرما گرمی کا باعث بن سکتا ہے۔

Related Posts