پیٹرولیم ڈویژن نے گھریلو گیس کنکشنز پر عائد کردہ پابندی ہٹانے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے جس سے لاکھوں صارفین کو سہولت ملے گی۔ ذرائع کے مطابق، ڈویژن نے اس حوالے سے ایک جامع سمری تیار کر کے متعلقہ حکام کو ارسال کر دی ہے جس میں نئے کنکشنز کی فراہمی کا منصوبہ شامل ہے۔
اس فیصلے کے تحت نئے گھریلو صارفین کو درآمدی ایل این جی (Liquefied Natural Gas) پر مبنی گیس کنکشنز فراہم کیے جائیں گے۔ تاہم، یہ کنکشنز قدرتی گیس کے مقابلے میں کئی گنا مہنگے ہوں گے، اور ان کی تنصیب کی فیس 41 ہزار روپے تک ہو سکتی ہے۔ نئے کنکشنز کا اجرا وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد شروع ہوگا۔
رواں ماہ کے آغاز میں پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع نے اشارہ دیا تھا کہ حکومت گیس کنکشنز پر پابندی ختم کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں ڈویژن کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ نئے گھریلو اور کمرشل صارفین کی ضروریات کا جائزہ لے کر ایک جامع پلان تیار کرے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق، گیس کے نظام میں اضافی دستیابی کی وجہ سے یہ فیصلہ ممکن ہوا ہے۔ سوئی کمپنیوں نے گیس کے نقصانات پر قابو پانے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، جس کے نتیجے میں نظام میں اضافی گیس موجود ہے۔ اسی وجہ سے ایل این جی کے پانچ کارگوز کی ترسیل کو مؤخر کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ 2019 میں گیس کی قلت کے باعث وفاقی حکومت نے نئے کنکشنز پر پابندی عائد کی تھی، مگر اب اضافی گیس کی دستیابی نے اس پابندی کے خاتمے کی راہ ہموار کی ہے۔ یہ فیصلہ گھریلو صارفین کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے، جو طویل عرصے سے نئے کنکشنز کے منتظر تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








