بھارت کی جنوبی ریاست کرناٹکا کی عدالت نے ایک غیر معمولی فیصلے میں جنتا دل کے سابق رکن اسمبلی اور بااثر سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے والے پراجوال ریوانا کو گھریلو ملازمہ سے جنسی زیادتی کے الزام میں عمر قید کی سزا سنا دی۔ یہ فیصلہ بھارتی سیاسی منظر نامے میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ طاقتور شخصیات کے خلاف ایسی سخت سزائیں نادر ہیں۔
34 سالہ پراجوال ریوانا، جو بھارت کے سابق وزیراعظم ایچ ڈی ڈیو گوڈا کے پوتے ہیں، پر یہ الزامات سب سے پہلے 2023 میں سامنے آئے تھے۔ اس دوران ان کے مبینہ طور پر سینکڑوں نامناسب ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جنہوں نے ملک بھر میں شدید احتجاج کو جنم دیا۔ ان ویڈیوز کے حوالے سے پراجوال کے دفتر سے دعویٰ کیا گیا کہ یہ جعلی ہیں لیکن عدالت نے انہیں اس کیس میں مجرم قرار دیا۔
عدالتی کارروائی کے دوران پراجوال ریوانا نے اپنے اوپر عائد الزامات سے مکمل انکار کیا تاہم جب عدالت نے انہیں مجرم ٹھہرایا تو انہوں نے آنسوؤں کے ساتھ عدالت سے کم سے کم سزا کی اپیل کی۔ بھارتی قانون کے مطابق وہ اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں اپیل دائر کر سکتے ہیں۔
پراجوال ریوانا اپریل 2024 میں سفارتی پاسپورٹ کے ذریعے جرمنی فرار ہوگئے تھے جب ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھیں تاہم بعد میں وہ واپس بھارت آئے جہاں انہیں فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا۔ فی الحال انہیں دو مزید ریپ کیسز اور ایک ہراسانی کے کیس کا سامنا ہے جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔
یہ کیس بھارت میں طاقتور سیاسی شخصیات کے احتساب کے حوالے سے ایک اہم مثال بن گیا ہے۔ پراجوال ریوانا کا تعلق نہ صرف ایک بااثر سیاسی خاندان سے ہے بلکہ ان کی جماعت جنتا دل موجودہ وزیراعظم نریندر مودی کی بی جے پی کی اتحادی بھی ہے۔ اس فیصلے سے ملک میں سیاسی اور سماجی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا واقعی قانون سب کے لیے برابر ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








