تونسہ کے قریب دریائے سندھ میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جس سے کچے کے علاقوں میں مزید دو دیہات اور کھڑی فصلیں پانی کی نذر ہو گئیں۔ سیلاب سے متاثرہ افراد کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں لیکن بہت سے رہائشی اپنے گھروں اور مال مویشیوں کو چھوڑنے سے انکاری ہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے امداد کے لیے 15 کیمپ قائم کیے ہیں مگر متاثرین کی اکثریت اب بھی اپنی جگہوں پر ڈٹی ہوئی ہے جبکہ حافظ آباد کے گردونواح میں حالیہ بارشوں کے باعث پانی کی نکاسی نہ ہونے سے علاقہ جل تھل ہو گیا ہے۔ اس صورتحال نے متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھا دیا ہے، جس سے مقامی آبادی شدید پریشانی کا شکار ہے۔
گلگت بلتستان میں شاہراہ بابوسر پر لاپتا ہونے والے سیاحوں کی تلاش کا عمل تیرہویں روز بھی جاری ہے۔ ایک نجی ٹی وی کی خاتون اینکر اور ان کے اہلخانہ سمیت کئی افراد اب تک لاپتا ہیں۔ گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان جلد ہی علاقے کا دورہ کریں گے تاکہ امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لے سکیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں بارشوں اور سیلاب کے باعث 4 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ حکام عوام سے احتیاط برتنے اور ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








