سوشل میڈیا پر متحرک اور معروف انفلوئنسر ڈاکٹر نبیحہ کا ایک ویڈیو بیان حالیہ دنوں میں وائرل ہو گیا ہے جس میں انہوں نے پاکستان کے مختلف ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں مبینہ طور پر جاری غیر اخلاقی سرگرمیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر خواتین ویٹرز کھانے پینے کی سروس سے ہٹ کر ایسے مشکوک دھندوں میں ملوث ہیں جو خاندانوں کے لیے بداعتمادی اور تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔
ڈاکٹر نبیحہ کے مطابق انہوں نے ذاتی طور پر مشاہدہ کیا کہ جب وہ کچھ دوستوں یا ساتھیوں کے ہمراہ ہوٹل گئیں تو خواتین ویٹرز نے ان کے ساتھ موجود مردوں کو اپنے فون نمبرز پیش کیے۔
ان کا دعویٰ ہے کہ اس عمل کے پیچھے مالی لین دین بھی ہوتا ہے اور یہ باقاعدہ ڈیلنگ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے پاس اس معاملے کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔
ویٹرس خواتین بہت گھر اجاڑ رہی ہیں ، یہ لڑکوں کو باقاعدہ نمبر دیتی ہیں ، ڈاکٹر نبیجہ pic.twitter.com/VO52os1A2K
— Muqadas Farooq Awan (@muqadasawann) August 3, 2025
ویڈیو میں ڈاکٹر نبیحہ نے مزید کہا کہ یہ سلسلہ صرف اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہوتا ہے، کئی ریسٹورنٹس میں انتظامیہ ایسی ویٹرز ہی رکھتی ہے جو ان سرگرمیوں میں ماہر ہوں تاکہ کاروبار دو رخوں پر چلے ایک کھانے کا اور دوسرا خفیہ آمدن کا۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ عمل تمام خواتین ویٹریس کے بارے میں کہنا مناسب نہیں لیکن اکثریت ایسی ہی خواتین پر مشتمل ہے جو اس دائرے میں کام کر رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف نمبر دینے تک محدود نہیں بلکہ خواتین کی خریدو فروخت جیسے گھناؤنے کاروبار کی بھی شکل اختیار کر گیا ہے، جو ہمارے معاشرتی نظام کے لیے خطرناک ہے۔
ان کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں کچھ افراد نے اس مسئلے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، وہیں کچھ صارفین نے ویٹریسز کی ساکھ پر سوال اٹھانے پر ڈاکٹر نبیحہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








