ٹرمپ نے گرین سگنل دے دیا، اسرائیل کا غزہ پر مکمل قبضے کا منصوبہ

تازہ ترین

تازہ ترین

ٹرمپ اور نیتن یاہو
ٹرمپ اور نیتن یاہو، فوٹو عالمی میڈیا

اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ صہیونی وزیراعظم نتن یاہو نے غزہ میں عسکری کارروائی کو وسعت دینے اور پورے غزہ پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، خاص طور پر اس وقت جب مزاحمت کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
اسرائیلی چینل 14 نے نتن یاہو کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ وزیر اعظم نے غزہ پر مکمل قبضے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ اگر اسرائیلی آرمی چیف نے اس فیصلے کی مخالفت جاری رکھی تو اسے مستعفی ہو جانا پڑے گا۔

اسرائیلی نشریاتی ادارے نے حکومتی وزراء کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ اگر غزہ پر مکمل قبضے کی منصوبہ بندی پر عملدرآمد ہوا تو اسرائیلی آرمی چیف استعفیٰ دے سکتا ہے۔ یہ صورتحال فوجی و سیاسی قیادت کے درمیان شدید اختلافات کی غمازی کرتی ہے۔ ادارے کے مطابق نتن یاہو نے فوج کی مخالفت کے باوجود عسکری کارروائی کو وسعت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ایک سینئر سیکورٹی اہلکار کے حوالے سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کی جزوی ڈیل آخری مرحلے میں تھی، مگر اسرائیل نے حیران کن طور پر اسے ترک کر دیا، جو مبصرین کے مطابق اس بات کی علامت ہے کہ نتن یاہو کی ترجیح جنگی حکمت عملی ہے، نہ کہ سفارتی حل۔
امریکی گرین سگنل:
اسرائیلی اخبار “یدیعوت احرونوت” کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نتن یاہو کو مزاحمت کے خلاف بھرپور فوجی کارروائی کا گرین سگنل دے دیا ہے۔ اخبار نے نتن یاہو کے قریبی ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ “فیصلہ ہو چکا ہے، اور ہم غزہ پر مکمل قبضے اور مزاحمت کے خلاف فیصلہ کن معرکے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔”
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج ان علاقوں میں بھی کارروائیاں کرے گی جہاں اسرائیلی قیدی موجود ہیں، جبکہ پہلے یہ دعویٰ کیا جاتا تھا کہ فوج ایسے علاقوں میں حملے سے گریز کرتی ہے۔ تاہم اخبار کے بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تمام تر بیانات دراصل مزاحمت پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک مذاکراتی چال بھی ہو سکتے ہیں۔
ادھر اسرائیلی چینل 14 کے مطابق ایک اعلیٰ سیاسی ذمہ دار نے کہا ہے کہ تاحال غزہ پر قبضے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، کیونکہ یہ اختیار صرف اسرائیلی کابینہ کے پاس ہے۔
اسرائیلی داخلی قیادت میں تقسیم اور امریکا کی پشت پناہی اس جانب اشارہ کر رہی ہے کہ آئندہ دنوں میں غزہ ایک بڑی اور فیصلہ کن فوجی کارروائی کی زد میں آ سکتا ہے، جس کے سیاسی و انسانی نتائج ناقابلِ تصور ہوں گے۔

Related Posts