ایچ آئی وی نے برباد کردیا خاندان؛ بچے کو قتل کرنے والی ماں کی دل دہلا دینے والی کہانی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

ممبئی کے چیمبور علاقے تلک نگر سے ایک دلخراش خبر سامنے آئی ہے جو انسانی زندگی کے تلخ حقائق اور معاشرتی مسائل کی گہرائی کو عیاں کرتی ہے۔ ایک 43 سالہ خاتون کی زندگی کے المناک واقعات نے نہ صرف اسے بلکہ پوری برادری کو صدمے میں ڈال دیا۔ تین شادیاں ہر بار شوہروں کی بے وفائی بوائے فرینڈ کا دھوکہ اور پھر ایک ایسی بیماری کا انکشاف جس نے اس کی زندگی کو مکمل طور پر بدل دیا۔ یہ کہانی نہ صرف ایک خاتون کی ذاتی جدوجہد کی عکاسی کرتی ہے بلکہ معاشرتی اور نفسیاتی دباؤ کے نتائج کو بھی نمایاں کرتی ہے۔

تلک نگر کی رہائشی اس خاتون کی زندگی اس وقت تکلیف دہ موڑ پر آئی جب اس کی تین شادیاں ناکام ہوئیں۔ ہر بار اس کے شوہر نے اسے چھوڑ دیا جس نے اسے جذباتی اور معاشی طور پر کمزور کر دیا۔ تنہائی اور معاشرتی دباؤ سے لڑتے ہوئے اس نے ایک نئے رشتے کی امید میں ایک شخص کے ساتھ تعلقات استوار کیے لیکن قسمت نے یہاں بھی اس کا ساتھ نہ دیا۔ جب وہ اس بوائے فرینڈ سے حاملہ ہوئی تو اس نے بھی اسے تنہا چھوڑ دیا۔

حمل کے دوران خاتون کو ایک اور صدمے کا سامنا کرنا پڑا۔ چھ ماہ قبل اس نے ایک بچے کو جنم دیا، لیکن اس کے فوراً بعد اسے اور اس کے نومولود بچے کو ایچ آئی وی پازیٹو ہونے کی تشخیص ہوئی۔ یہ خبر اس کے لیے ایک اور بڑا دھچکا تھی۔ مالی مشکلات، علاج کے بڑھتے اخراجات اور معاشرتی دباؤ نے اسے ذہنی طور پر مفلوج کر دیا۔ اس نے اپنی زندگی کے اس تاریک موڑ پر ایک ایسا فیصلہ کیا جو ناقابل یقین اور دل دہلا دینے والا تھا۔

اپنے حالات سے تنگ آکر خاتون نے اپنے چھ ماہ کے بچے کو تکیے سے گلا گھونٹ کر قتل کر دیا جب وہ جھولے میں سو رہا تھا۔ اس کے بعد اس نے اپنے گھر میں کام کرنے والی ایک اور خاتون پر چاقو سے حملہ کرنے کی کوشش کی۔ اس کا ارادہ خودکشی کرنے کا بھی تھا، لیکن پولیس کو بروقت اطلاع مل گئی۔ کنٹرول روم کو موصول ہونے والی کال کے بعد پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور خاتون کو گرفتار کر لیا۔

گرفتاری کے بعد خاتون نے پولیس کو اپنی تکلیف دہ کہانی سنائی۔ اس نے بتایا کہ وہ اپنی زندگی سے تنگ آ چکی تھی۔ تینوں شوہروں نے اسے چھوڑ دیا تھا بوائے فرینڈ نے حمل کے بعد اسے دھوکہ دیا اور ایچ آئی وی کی تشخیص نے اسے مکمل طور پر توڑ دیا۔ بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے طبی اخراجات نے اسے اس مقام پر پہنچا دیا جہاں اس نے اپنے بچے کی جان لینے کا فیصلہ کیا۔

پولیس نے ملزمہ خاتون کو حراست میں لے کر معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک خاتون کی ذاتی زندگی کے المیے کی عکاسی کرتا ہے بلکہ معاشرے میں ایچ آئی وی سے متعلق بدنامی، مالی مشکلات اور جذباتی تنہائی جیسے مسائل پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔

Related Posts