معروف بھارتی کامیڈین اور ٹیلی ویژن اسٹار کیپل شرما کے زیرِ ملکیت سرے کے ایک کیفے پر ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں دوسری بار فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس سے علاقے میں بڑھتی ہوئی بھتے کی دھمکیوں اور گینگ سے منسلک تشدد کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
جمعرات کی صبح 85 ایونیو اور اسکاٹ روڈ کے قریب واقع کیپس کیفے پر شیشے ٹوٹے ہوئے پائے گئے اور عمارت پر کم از کم چھ گولیوں کے نشانات ملے۔ سرے پولیس سروس (ایس پی ایس) نے تصدیق کی کہ صبح 4:40 بجے کے قریب پولیس کو جائے وقوع پر طلب کیا گیا۔
مقامی رہائشی باب سنگھ جنہوں نے اپنی کھڑکی سے فائرنگ کا منظر دیکھا نے سٹی نیوز وینکوور کو بتایا کہ میں نے پانچ یا چھ گولیوں کی آوازیں سنیں اور پھر پولیس وہاں پہنچ گئی۔
واضح رہے کہ یہ حملہ 10 جولائی کو ہونے والے ایک اسی طرح کے واقعے کے بعد سامنے آیا ہے، جب مسلح افراد نے نو کھلے کیفے پر اس وقت فائرنگ کی جب عملہ ابھی اندر موجود تھا۔خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا البتہ عمارت پر متعدد گولیوں کے نشانات پائے گئے۔
تازہ واقعے نے بین الاقوامی رنگ اختیار کر لیا ہے کیونکہ بھارتی میڈیا کے مطابق دو مجرمانہ گروہوں ایک گروپریت سنگھ عرف گولڈی ڈھلوں کی سربراہی میں اور دوسرا لارنس بشنوئی سے منسلک نے سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
ایک ویڈیو میں جو مبینہ طور پر فائرنگ سے منسلک ہے گولیوں کی آواز کے ساتھ ایک آواز سنائی دیتی ہے کہ ہم نے ہدف کو کال کی تھی لیکن اس نے رِنگ نہیں سنی اس لیے ہمیں کارروائی کرنی پڑی۔ اگر وہ اب بھی رِنگ نہیں سنتا تو اگلی کارروائی جلد ممبئی میں ہوگی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی سیکیورٹی ایجنسیاں، بشمول ممبئی پولیس اس ویڈیو کا جائزہ لے رہی ہیں اور پیغام کی روشنی میں ممکنہ خطرات کی جانچ کر رہی ہیں۔
10 جولائی کے حملے کے بعد کالعدم خالصتانی تنظیم ببر خالصہ انٹرنیشنل (بی کے آئی) سے منسلک ایک مطلوب انتہا پسند ہرجیت سنگھ لڈی نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ لڈی نے الزام لگایا کہ فائرنگ کیپل شرما کے شو میں ایک ایسے حصے کے جواب میں کی گئی جس میں سکھوں کا مذاق اڑایا گیا تھا جس سے سکھ برادری کے کچھ حصوں کی دل آزاری ہوئی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








