یروشلم: اسرائیل کی سیاسی و سلامتی کابینہ نے غزہ شہر پر فوجی کنٹرول کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت اسرائیلی افواج غزہ کے شمالی حصے میں واقع سب سے بڑے شہر پر قبضہ کرتے ہوئے جنگی علاقوں سے باہر شہری آبادی کو انسانی امداد فراہم کریں گی۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا کہ اسرائیل پورے غزہ پٹی پر فوجی کنٹرول حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے حالانکہ اس تقریباً دو سالہ تباہ کن جنگ پر اندرون اور بیرون ملک شدید تنقید جاری ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق منصوبے میں فلسطینی شہریوں کی غزہ شہر سے مرحلہ وار انخلا اور اس کے بعد زمینی فوجی کارروائی شامل ہے۔
نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس علاقے کو مستقل اپنے پاس رکھنے کے بجائے ایک محفوظ سرحدی پٹی قائم کرنا چاہتا ہے اور پھر اسے عرب ممالک کے حوالے کرے گا، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ کون سے عرب ممالک اس انتظام میں شامل ہوں گے۔
اسرائیلی کابینہ کے بیشتر ارکان کا خیال ہے کہ متبادل منصوبہ حماس کو شکست دینے اور یرغمالیوں کی بازیابی کے اہداف پورے نہیں کرسکے گا۔
غزہ پر مکمل فوجی قبضہ 2005ء کے اُس فیصلے کو پلٹ دے گاجس کے تحت اسرائیل نے اپنے فوجیوں اور شہریوں کو غزہ سے واپس بلالیا تھا مگر سرحدوں، فضائی حدود اور بنیادی سہولیات کا کنٹرول برقرار رکھا تھا۔
حماس نے اس منصوبے کو مذاکراتی عمل کے خلاف ’’کھلا بغاوت‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ جارحیت میں توسیع کی کوشش ہے، جس کا مقصد اپنے ہی قیدیوں کو ختم کرنا ہے۔ عرب ممالک نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ صرف اسی منصوبے کی حمایت کریں گے جو فلسطینی عوام کی مرضی سے طے پائے۔
دوسری جانب یروشلم میں وزیرِاعظم کے دفتر کے باہر سیکڑوں مظاہرین نے جنگ کے خاتمے اور یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ یرغمالیوں کے اہلِ خانہ نے بھی فوجی قیادت سے جنگ میں مزید توسیع کی مخالفت کرنے کی اپیل کی ہے۔
اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے غزہ میں فوجی کارروائی میں مزید وسعت دی تو یہ انتہائی تشویشناک ہوگا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے اور انسانی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








